لاہور: ضلعی انتظامیہ کا غیر قانونی ٹیوشن سنٹرز بند کرنے کا حکم
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد طلبہ کے لیے قائم تعلیمی مراکز میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینا اور غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی کرنا ہے۔
سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی نے بتایا کہ سروے کے دوران تمام نجی اکیڈمیز اور ٹیوشن سنٹرز کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، جس میں عمارتوں کی حالت، حفاظتی اقدامات، طلبہ کی تعداد، تدریسی ماحول اور دیگر ضروری معلومات شامل ہوں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سروے تین روز کے اندر مکمل کیا جائے گا جس کے بعد جامع رپورٹ تیار کی جائے گی۔
ایجوکیشن اتھارٹی نے اس مقصد کے لیے زونل ہیڈز اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو شہر کے مختلف علاقوں میں جا کر نجی ٹیوشن سنٹرز، اکیڈمیز اور گھروں میں قائم تعلیمی مراکز کا معائنہ کریں گی۔
حکام کے مطابق سروے کے نتائج کی روشنی میں غیر محفوظ اور غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سنٹرز کی نشاندہی کی جائے گی۔
رپورٹ کی بنیاد پر نجی اکیڈمیز اور ٹیوشن سنٹرز کی رجسٹریشن، نگرانی اور ریگولیشن کے لیے نئی پالیسی اور ضابطہ کار بھی تیار کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: کاہنہ ٹیوشن سینٹر سانحہ: لواحقین کیلئے 20،20 لاکھ روپے امداد کا اعلان
ڈائریکٹر کمیونی کیشن ایجوکیشن اتھارٹی طارق محمود کا کہنا ہے کہ طلبہ کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اسی لیے نجی تعلیمی مراکز کو باقاعدہ نظام کے تحت لانے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے تمام غیر قانونی ٹیوشن سنٹرز بند کرنے کا حکم دے دیا۔
انتظامیہ کے مطابق بغیر اجازت گھروں کو کمرشل بنیادوں پر ٹیوشن سنٹرز کے طور پر استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی اور جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔