حضرت عمر ؓ کواپنے نبی ﷺ کی نظر سے دیکھیں
آج ہم حضرت عمر بن خطاب ؓکی سیرت کو ایک خاص انداز سے دیکھیں گے۔ ہم انہیں صرف ایک بہادر حکمران یا عظیم خلیفہ کے طور پر نہیں دیکھیں گے، بلکہ اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی نظر سے دیکھیں گے۔
یہ اس عظیم صحابی کی کہانی ہے جس کے لیے نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی، جس کے دل و زبان پر حق جاری ہوا، جس سے شیطان بھی ڈرتا تھا، جس کے دین کی مضبوطی کو نبی ﷺ نے خواب میں دیکھا، اور جسے جنت کی خوشخبری ملی۔
نبی ﷺ کی دعا اور عمر ؓکا اسلام
مکہ مکرمہ کا زمانہ تھا۔ مسلمان تھوڑے تھے، کمزور تھے، اور کفار انہیں بہت ستاتے تھے۔ ایسے وقت میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی”: اے اللہ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہو، اس کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما“۔
یہ دعا بہت خاص تھی۔ رسول اللہ ﷺ چاہتے تھے کہ اسلام کو طاقت ملے، مسلمانوں کو حوصلہ ملے، اور حق کی آواز بلند ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا، اور عمر بن خطاب ؓکو اسلام کی دولت عطا فرمائی۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓفرماتے ہیں کہ ان دونوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب حضرت عمر ؓتھے۔
جب حضرت عمر ؓمسلمان ہوئے تو مسلمانوں کے دل خوشی سے بھر گئے۔ کمزور دل مضبوط ہو گئے۔ جو مسلمان چھپ چھپ کر عبادت کرتے تھے، انہیں حوصلہ ملا۔ حضرت عمر ؓکا اسلام قبول کرنا گویا اسلام کے لیے ایک نیا روشن باب تھا۔
حق بات حضرت عمر ؓکے دل اور زبان پر
بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی بات میں سچائی، انصاف اور سمجھ داری بہت نمایاں ہوتی ہے۔ حضرت عمر ؓبھی ایسے ہی عظیم انسان تھے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”بے شک اللہ تعالیٰ نے عمر کے دل اور زبان پر حق جاری کر رکھا ہے“۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر ؓکی سوچ، رائے اور گفتگو میں حق کی روشنی نمایاں ہوتی تھی۔ وہ سچ بات کہنے سے نہیں ڈرتے تھے۔ انہیں اللہ کا خوف تھا، اس لیے کسی بڑے سے بڑے شخص کے سامنے بھی حق بات کہہ دیتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت عمر ؓکی رائے کو بہت اہم سمجھتے تھے۔ ان کا دل دین کی محبت سے بھرا ہوا تھا، اور ان کی زبان حق بات کہنے کی عادی تھی۔
اگر اس امت میں کوئی محدث ہوتا
ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے پچھلی امتوں کا ذکر فرمایا۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ پچھلی امتوں میں ایسے لوگ ہوتے تھے جن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق بات ڈال دی جاتی تھی۔ انہیں ” محدث“کہا جاتا تھا۔پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے“۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت عمر ؓنبی تھے، کیونکہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر ؓکا دل بہت پاکیزہ، دین کے لیے بہت حساس، اور حق بات کو سمجھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی سمجھ عطا فرمائی تھی کہ وہ بہت مرتبہ صحیح بات تک پہنچ جاتے تھے۔یہ حضرت عمر ؓکے عظیم مقام کی نشانی ہے۔
شیطان بھی حضرت عمر ؓسے ڈرتا تھا
شیطان انسان کو غلط راستے پر لگاتا ہے۔ وہ دل میں برے خیال ڈالتا ہے، نیکی سے روکتا ہے، اور گناہ کی طرف بلاتا ہے۔ مگر حضرت عمر ؓایمان میں اتنے مضبوط، حق پر اتنے قائم، اور باطل کے مقابلے میں اتنے سخت تھے کہ شیطان بھی ان سے بھاگتا تھا۔رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓسے فرمایا:”اے عمر! بے شک شیطان تجھ سے ڈرتا ہے“۔
ایک اور روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”میں دیکھ رہا ہوں کہ جنات کے شیطان اور انسانوں کے شیطان سب عمر سے بھاگ گئے ہیں“۔
اور صحیح بخاری کی روایت میں نبی کریم ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا:”اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جس راستے پر چلتے ہو، شیطان اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلا جاتا ہے“۔
یہ کتنا بڑا مقام ہے! شیطان ان لوگوں سے ڈرتا ہے جو ایمان میں پکے ہوں، نماز کے پابند ہوں، سچائی سے محبت کرتے ہوں، اور غلط بات پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔ حضرت عمر ؓایسے ہی مضبوط ایمان والے صحابی تھے۔
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓکی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے“۔
یہ حدیث حضرت عمر ؓکی بہت بڑی فضیلت بیان کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ؓنبی تھے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آپ کے دین، سمجھ، تقویٰ، حق پسندی اور مقام کی بہت بڑی تعریف فرمائی۔
ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اس لیے یہ فرمان حضرت عمر ؓکی بزرگی اور عظمت کو ظاہر کرتا ہے، نبوت کو نہیں۔
نبی ﷺ کا خواب: حضرت عمر ؓکی لمبی قمیص
ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنا خواب سنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے لوگ پیش کیے گئے۔ کسی کی قمیص سینے تک تھی، کسی کی اس سے نیچے تھی، پھر عمر بن خطاب ؓپیش کیے گئے تو ان کی قمیص اتنی لمبی تھی کہ وہ اسے گھسیٹ رہے تھے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا:”یا رسول اللہ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے“؟آپ ﷺ نے فرمایا:”دین“۔
یعنی اس خواب میں قمیص دین کی علامت تھی۔ حضرت عمر ؓکی لمبی قمیص کا مطلب یہ تھا کہ ان کا دین بہت مضبوط، کامل اور نمایاں تھا۔ وہ دین پر مضبوطی سے قائم رہنے والے تھے۔
جنت میں حضرت عمر ؓکا محل
حضرت عمر ؓکی ایک اور بہت پیاری فضیلت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنت میں ان کا محل دیکھا۔یہ کتنی بڑی خوشخبری ہے! دنیا کے محل مٹی، پتھر اور اینٹوں سے بنتے ہیں، مگر جنت کا محل اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ جس شخص کے لیے نبی ﷺ جنت میں محل دیکھیں، اس کا مقام کتنا بلند ہوگا!اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے حضرت عمر ؓکو جنتی بھی فرمایا۔ یعنی حضرت عمر ؓان خوش نصیب صحابہ میں سے ہیں جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت ملی۔
آخری وقت میں بھی سنت کی فکر
حضرت عمر ؓمسلمانوں کے خلیفہ تھے۔ آپ عدل کرتے تھے، لوگوں کی خبر گیری کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ سے بہت ڈرتے تھے۔ ایک دن فجر کی نماز کے وقت ایک بدبخت مجوسی ابو لؤلؤ فیروز نے آپ پر حملہ کیا۔ آپ شدید زخمی ہو گئے۔زخم بہت گہرا تھا۔ آپ کو دودھ پلایا گیا تو وہ جسم کے اندر ٹھہر نہ سکا۔ سب کو معلوم ہو گیا کہ زخم بہت خطرناک ہے۔ ایسے نازک وقت میں بھی حضرت عمر ؓکی فکر اپنے آرام کی نہیں تھی، بلکہ دین اور سنت کی تھی۔اسی حالت میں ایک نوجوان آپ کے پاس آیا۔ حضرت عمر ؓنے دیکھا کہ اس کا کپڑا ٹخنوں سے نیچے ہے۔ آپ نے محبت اور نصیحت کے انداز میں فرمایا:”بھتیجے! اپنا کپڑا اوپر کر لو، یہ تمہارے کپڑے کو بھی زیادہ صاف رکھے گا اور تمہارے رب کے نزدیک بھی زیادہ تقویٰ والی بات ہے“۔
سبحان اللہ! ایک شخص سخت زخمی ہے، زندگی کے آخری لمحات قریب ہیں، مگر پھر بھی اسے رسول اللہ ﷺ کی سنت یاد ہے۔ اسے یہ فکر ہے کہ ایک نوجوان کی اصلاح ہو جائے، وہ اللہ تعالیٰ کو پسند آنے والا طریقہ اختیار کر لے۔
یہ تھا حضرت عمر ؓکا دل! اپنی تکلیف بھول گئے، مگر دین کی بات نہ بھولے۔
حضرت علی ؓکی محبت
حضرت عمر ؓسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محبت کرتے تھے۔ حضرت علی ؓنے بھی اپنے ایک بیٹے کا نام عمر رکھا۔ یہ بات اس محبت کی نشانی ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے موجود تھی۔
ہمیں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرنی چاہیے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھی تھے، دین کے مددگار تھے، اور ہمارے لیے ہدایت کے روشن ستارے ہیں۔
حضرت عمر ؓکی سیرت سے ہمیں بہت سے سبق ملتے ہیں۔
ہمیں دین سے محبت کرنی چاہیے۔ حق بات کہنی چاہیے۔ نماز کی پابندی کرنی چاہیے۔ شیطان سے بچنے کے لیے ایمان مضبوط کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت سے محبت کرنی چاہیے۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب اپنے دل میں رکھنا چاہیے۔
حضرت عمر ؓطاقتور بھی تھے، مگر اللہ کے سامنے عاجز تھے۔ بہادر بھی تھے، مگر دین کے پابند تھے۔ حکمران بھی تھے، مگر سنت کے محافظ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کی اتنی عظیم فضیلتیں بیان فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں حضرت عمر فاروق ؓاور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت پیدا فرمائے۔ ہمیں سچائی، نماز، تقویٰ، بہادری اور سنت کی پیروی کرنے والا بنائے۔ آمین۔
حوالہ جات: یہ مضمون حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق احادیث و آثار کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس میں سنن الترمذی، صحیح بخاری، صحیح مسلم، صحیح ابن حبان، موارد الظمآن، تقریب التہذیب، فضائل الصحابۃ للإمام احمد بن حنبل اور فضائل عمر بن الخطاب لابن الجوزی وغیرہ سے استفادہ کیا گیا ہے۔
(تحریر و تحقیق)
محمد حسنین رضا
(اسلامی اسکالر، محقق، اور کالم نگار)