مریم نواز کا آئندہ سال کاشتکاروں کو 20 ہزار گرین ٹریکٹر دینے کا اعلان

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر گرین ٹریکٹر سکیم کے تحت 9 ہزار 500 ہائی پاور ٹریکٹروں پر 10 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی دی گئی/ فائل فوٹو
Updated | Published June, 5 2026 |
لاہور: (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب زرعی میکانائزیشن کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے اور کاشتکاروں کو جدید زرعی مشینری کی فراہمی کے لیے تاریخی اقدامات کیے جا رہے ہیں، اگلے مالی سال میں کسانوں کو 20 ہزار گرین ٹریکٹر فراہم کئے جائیں گے، اس حوالے سے ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق وزیراعلیٰ کی ہدایت پر گرین ٹریکٹر سکیم کے تحت 9 ہزار 500 ہائی پاور ٹریکٹروں پر 10 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی دی گئی جبکہ 50 سے 65 ہارس پاور کے 10 ہزار ٹریکٹرز پانچ لاکھ روپے سبسڈی کے ساتھ کاشتکاروں کو فراہم کئے جا رہے ہیں۔

مریم نواز نے اعلان کیا کہ گرین ٹریکٹر سکیم کے نئے مرحلے میں ہائی ہارس پاور ٹریکٹروں پر 15 لاکھ روپے جبکہ 50 سے 65 ہارس پاور تک کے ٹریکٹروں پر ساڑھے سات لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کاروبار کے اوقات دوبارہ تبدیل، نوٹیفکیشن جاری

یہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پنجاب میں پہلی مرتبہ 12 اقسام کی ہائی ٹیک زرعی مشینری کی خریداری کیلئے 3 کروڑ روپے تک کے بلاسود قرضوں کی سکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت کاشتکاروں کو تقریباً 200 ہائی ٹیک کمبائنڈ ہارویسٹر فراہم کئے جا چکے ہیں جبکہ گندم کی کٹائی کے لیے پہلی مرتبہ 50 جدید کمبائنڈ ہارویسٹر استعمال کئے گئے۔ ماحولیاتی آلودگی اور دھان کی باقیات جلانے کے مسئلے کے حل کیلئے چاول کے کاشتکاروں میں 5 ہزار سپر سیڈر تقسیم کئے گئے ، جن کی مدد سے پہلی بار 14 لاکھ ایکڑ رقبے پر چاول کی کاشت مکمل کی گئی۔ سپر سیڈر سکیم کے دوسرے مرحلے میں مزید 5 ہزار سپر سیڈر فراہم کئے جا رہے ہیں۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مشینری سے آراستہ کرنا ان کا عزم ہے ۔ زرعی میکانائزیشن سے نہ صرف پیداواری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ فی ایکڑ پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سپر سیڈر کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے ۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ جدید زرعی مشینری کا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے ، اسی لئے حکومت چھوٹے کاشتکاروں کیلئے جدید زرعی مشینری کرائے پر حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان جدید زرعی طریقوں سے استفادہ کر سکیں۔