نامور شاعر اور اسسٹنٹ پروفیسر قاتلانہ حملے میں جاں بحق
پولیس کے مطابق یہ واقعہ کلی مینگل کے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے اسسٹنٹ پروفیسر محمد خان عرف غمخوار حیات کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ واردات کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
ایس پی نوشکی سلیم شاہوانی کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے، واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر واقعے کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکی ہیں، تاہم ذاتی دشمنی، پیشہ ورانہ رنجش یا دیگر ممکنہ پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کی جارہی ہے۔
خیال رہے کہ محمد خان عرف غمخوار حیات نہ صرف تعلیمی میدان میں ایک قابل استاد تھے بلکہ براہوی زبان کے ممتاز شاعر کے طور پر بھی جانے جاتے تھے، ان کی ادبی خدمات کو علمی و ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:سال 2026 میں گوگل پر سب سے زیادہ کیا سرچ ہوا؟ جانیے
ان کے قتل کی خبر سامنے آنے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہے جبکہ ادبی شخصیات اور شہریوں کی جانب سے واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔