پٹرولیم قیمتوں میں اضافے بارے توجہ دلاؤ نوٹس ایوان میں پیش
ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں جماعت اسلامی کی خاتون رکن نعیمہ کشور نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس ایوان میں پیش کیا۔
رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کی ناکامی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ حکومت کے پاس پٹرولیم لیوی میں اضافے کا کیا جواز ہے؟
پارلیمانی سیکرٹری نے جواب دیا کہ کسی پٹرول پمپ پر رش نہیں ہے، پٹرول پر فی لٹر ٹیکس 117 روپے ہے، حالت جنگ کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا پڑیں۔
سیکرٹری پارلیمانی امور کا مزید کہنا تھا کہ مشکل حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو بھی حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی میں 13 روپے 91 پیسے اضافہ کیا گیا تھا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول پر عائد لیوی 103 روپے 50 پیسے سے بڑھا کر 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے جبکہ ڈیزل پر لیوی 28 روپے 69 پیسے سے بڑھا کر 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم لیوی بڑھا دی
دو روز قبل قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران حکومت عوام سے پٹرولیم لیوی کی مد میں 12 کھرب روپے سے زائد کی رقم وصول کر چکی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کی مد میں مجموعی طور پر 12 کھرب 5 ارب 18 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔
یہ رقم پٹرول اور ڈیزل سمیت دیگر پٹرولیم مصنوعات کے استعمال پر عوام سے حاصل کی گئی۔