تفصیلات کے مطابق پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات کے موقع پر خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔ وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ سینیٹر سید محسن رضا نقوی موجود تھے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوں گے، پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے دونوں فریقین کے درمیان پیش رفت میں اپنی سہولت کاری جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
.jpg)
یاد رہے ایران سے جامع جنگ بندی مذاکرات کے لیے امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچے، جے ڈی وینس کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی ہمراہ ہیں۔

امریکی نائب صدر کے طیارے نے مشرق وسطیٰ ممالک کی فضا کو نظر انداز کر کے طویل راستہ اختیار کیا اور میری لینڈ سے روانگی کے بعد طیارے نے پیرس میں ڈھائی گھنٹے اسٹاپ اوور کیا۔ امریکی نائب صدر کے طیارے نے طویل افغان کی فضائی حدود استعمال نہیں کی، ان کا خصوصی طیارہ جارجیا، آذربائیجان، ترکمنستان اور تاجکستان کے راستے پاکستان پہنچا۔

جے ڈی وینس کا طیارہ 10 بجے چترال کے قریب سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا، پاکستان کی فضائی حدود میں ائیر فورس کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیا اور خصوصی طیارے نے صبح 10:33 بجے نورخان ائیر بیس پر لینڈ کیا۔

جے ڈی وینس ایران سے مثبت بات چیت کے لیے پر امید ہیں، انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم مثبت مذاکرات چاہتے ہیں، ایران مخلص ہے تو ہم بھی کھلے دل سے بات کریں گے، اگر ایران نے ہمارے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی تو ہم بھی کمزوری نہیں دکھائیں گے۔