رپورٹس کے مطابق فہمیدہ لغاری سندھ سے تعلق رکھنے والی تیسرے سال کی ایم بی بی ایس کی طالبہ تھیں، ان کی اچانک موت نے اہلِ خانہ اور عوام کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق وہ کئی ماہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ ان کے والد کا کہنا ہے کہ انہیں ہراسانی کا سامنا تھا جو ان کی خودکشی کی بڑی وجہ بنی۔
خاندان کا الزام ہے کہ میڈیکل کالج میں طلبہ اور اساتذہ کے خلاف ہراسانی کی متعدد شکایات درج کروائی گئیں لیکن انتظامیہ نے ان پر مناسب کارروائی نہیں کی۔ اس کے باعث حالات مزید خراب ہوئے اور بالآخر انہوں نے خودکشی کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی بورڈ کا میٹرک طلبہ کے لیے رعایت کا اعلان
ان کی بہن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر آواز اٹھائیں اور انصاف کا مطالبہ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ کو ہراسانی جیسے مسائل پر بات کرنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے جہاں صارفین نے شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ بہت سے لوگ اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ بروقت کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔
یہ واقعہ تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے سنگین مسئلے کو اجاگر کرتا ہے اور اب حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ میڈیکل کالج کی تحقیقات کریں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنائیں۔