وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 9 اپریل کو لیاقت باغ میں جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ، جس کیلئے مقامی قیادت نے باقاعدہ اجازت نامے کی درخواست بھی جمع کرا دی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ایک پرامن اور ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہے، جو آئین و قانون کی بالادستی کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ راولپنڈی میں جلسہ کرنا جماعت کا آئینی حق ہے، لہٰذا متعلقہ حکام اجازت فراہم کریں۔
سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جلسے میں خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر سے کارکنان کو مدعو کیا جائے گا، انہوں نے واضح کیا کہ اگر جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو جہاں روکا گیا وہیں احتجاج کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے تمام جمہوری، آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے، مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، نہ تو مقدمات کی سماعت ہو رہی ہے اور نہ ہی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے، جس کے باعث احتجاج کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سب موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی نہیں ملے گی: مشیر وزیرِ خزانہ
اس پیش رفت کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے بعد راولپنڈی میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ انتظامیہ کے فیصلے پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔