اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل دو رکنی بنچ نے تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے کے لیے فوری طور پر میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔
عدالتی فیصلے میں لکھا گیا کہ میڈیکل بورڈ میں پمز کے ڈاکٹر محمد عارف خان اور الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہوں گے، میڈیکل بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں چیف کمشنر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کریں گے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کا اختیار خصوصی طور پر حکومت کے پاس ہے، عدالت دفعہ 561 اے کے تحت ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی کو ان کی طبیعت کی خرابی کے بارے میں بروقت آگاہ نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیل حکام کو ہدایت کی جاتی ہے کہ قیدی کی طبیعت خراب ہونے پر فیملی کو مطلع کرنے کے رول 795 پر سختی سے عمل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان رہائی فورس سے متعلق پی ٹی آئی کا بڑا فیصلہ
عدالت نے حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیلوں کی ملاقات سے متعلق لارجر بنچ کے 24 مارچ 2025 کے فیصلے کے طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔
عدالتی فیصلے میں لکھا گیا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بیماری 'ریٹینل وین اوکلوژن' کی تشخیص ہوئی جس کے لیے اینٹی وی جی ای ایف تھراپی کی گئی، جیل رپورٹ کے مطابق اینٹی وی جی ای ایف کے ٹیکوں کے بعد بانی پی ٹی آئی کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
بعدازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے اور حقوق سے متعلق دائر درخواست نمٹا دی۔