بیرون ملک بھیک والے ایک منظم نیٹ ورک کا انکشاف سامنے آیا ہے جو سعودی عرب میں رقوم اکھٹی کر کے انہیں خفیہ ذرائع سے دیگر ممالک منتقل کرتا رہا ہے۔
ایف آئی اے امیگریشن حکام کے مطابق فیصل آباد کے رہائشی دو مسافر محمد جمیل اور گڑیا بی بی سعودی عرب سے کراچی پہنچے تو انہیں کلیئرنس کے دوران مشکوک حرکات پر روک لیا گیا، ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ دونوں عمرہ ویزے پر سعودی عرب گئے تھے، واپسی پر انکے بیانات نے کئی اہم راز بے نقاب کردیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات میں پتہ چلا کہ یہ افراد ایک منظم گروہ کا حصہ ہیں جو سعودی عرب میں بھیک مانگ کر رقم جمع کرتا اور پھر حوالہ ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کرتا ہے، اس مقصد کے لیے مختلف ایجنٹس کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک ساتھ چار تعطیلات کا اعلان
تفتیش کے دوران سہولت کار افتخار عرف وکیل کا نام بھی سامنے آیا جو مختلف افراد کو بیرون ملک بھیک مانگنے کے لیے بھجواتا تھا، ایک بینک اکاؤنٹ کی بھی نشاندھی ہوئی ہے جس کے ذریعے مالی لین دین کیا جاتا رہا۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے موبائل فونز سے اہم شواہد، بشمول رسیدیں اور وائس نوٹس برآمد ہوئے ہیں، دونوں افراد کو حراست میں لے کر مزید کاروائی کیلئے اے ایچ ٹی سی کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے جہاں تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے دیگر کرداروں تک پہنچنے کیلئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔