عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت ختم کروانے کے لیے لابنگ کی اپیل محض غیر ذمہ دارانہ نہیں بلکہ ایسا اقدام ہے جو ذاتی سیاسی مفادات کو کروڑوں افراد کی معاشی بقا پر ترجیح دیتا ہے۔ جی ایس پی پلس کوئی علامتی رعایت نہیں بلکہ یہ کلیدی برآمدی شعبوں کو سہارا دیتی ہے، وسیع پیمانے پر روزگار کو یقینی بناتی ہے اور پاکستان کی یورپی منڈیوں تک رسائی کی بنیاد ہے۔ اسے کسی فرد کو قانونی کارروائی سے نجات دلانے کے لیے سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ہر اخلاقی، سیاسی اور قومی حد کو پار کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب کی کٹوتی کا فیصلہ
ایسے اقدامات کو اختلافِ رائے یا جمہوری اظہار کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ درحقیقت ایک سوچا سمجھا عمل ہے جس کے ذریعے داخلی سیاسی تنازعات کو بیرونی سطح پر لے جا کر پاکستان کی معاشی استحکام، عالمی ساکھ اور مستقبل کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ یہ اپوزیشن سیاست نہیں بلکہ کھلی معاشی تخریب کاری ہے۔ کوئی بھی ریاست ان عناصر کو برداشت نہیں کر سکتی جو ذاتی مفادات کے حصول کے لیے غیر ملکی قوتوں کو اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کریں۔