سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری ایک پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مکالمے کی جاری کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے، پاکستان ان کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کی رضامندی سے مشروط، پاکستان بامعنی اور حتمی مذاکرات کے انعقاد کے لیے بطور میزبان اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار اور اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتا ہے تاکہ جاری تنازع کے جامع حل تک پہنچا جا سکے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ٹیلیفونک گفتگو میں خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کا تعمیری کردار جاری رکھنے پر اتفاق کیاگیاتھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا ایرانی پاور پلانٹس اور توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کا حکم
گزشتہ روز مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر رپورٹ ہوا کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، وٹکوف اور جیرڈ کشنر ممکنہ طور پر اگلے ہفتے اسلام آباد میں ایران کے ہونے والے مذاکرات کی نمائندگی کریں گے۔
دوسری جانب اس حوالے سے ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر فریقین راضی ہیں تو پاکستان ثالثِی کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
ادھر چینی سفیر جیانگ زے ڈونگ نے مشرق وسطیٰ جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔
اس کو بھی پڑھیں: امریکا سے مذاکرات کے معاملے پر ایران کا ردعمل بھی آگیا
چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مثبت ثالثِی کا کردار ادا کر رہا ہے، بعض ممالک کا اجارہ دارانہ رویہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے خلاف ہے، عالمی اداروں کو موجودہ صورتحال میں فوری اور مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ کی 'گلوبل گورننگ' تجویز کے مطابق منصفانہ عالمی نظام وقت کی ضرورت ہے، چین اور پاکستان کے درمیان معاشی تعاون پائیدار، جامع اور تمام شعبوں پر محیط ہے، عالمی سطح پر مشکل حالات کے باوجود چین اور پاکستان میں ترقی کا عمل جاری ہے۔
| فقہ جعفری | فقہ حنفی | شہر | ||
|---|---|---|---|---|
| افطار | سحر | افطار | سحر | |