اڈیالہ جیل کے باہر گورکھپور ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو بانی پی ٹی آئی سے جا کر بات کرے اور مذاکرات کرے، عمران خان کو بہت غصہ ہے، تین سال سے انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں۔
علیمہ خان نے کہا کہ جان بوجھ کر عمران خان کی آنکھ ضائع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ڈر کے مارے وہ کہے کہ میں ڈیل اور مذاکرات کرنا چاہتا ہوں، عمران خان کبھی نہیں کہے گا کیونکہ وہ صرف اور صرف پاکستان کے لیے کھڑا ہے، اس نے سارا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے اور اللہ کے ساتھ وہ رابطے میں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں عمران خان کی آنکھ کا تیسرا پروسیجر مکمل کر لیا گیا ہے یا انہیں ہسپتال لایا گیا ہے، ہمیں تو صبح سوشل میڈیا ، اخبارات سے اور میڈیا سے معلوم ہوا کہ بانی کو ہسپتال لے جایا گیا ہے،ہمیں کیا پتا کیا علاج ہو رہا ہے، کسی کو نہیں بتایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی آنکھ کا پمز ہسپتال میں تیسرا پروسیجر مکمل
انہوں نے کہا کہ ہم نے جو دو ڈاکٹرز کے نام تجویز کیے تھے ان میں سے ایک ڈاکٹر ندیم قریشی تھے لیکن وہ بانی کے علاج سے متعلق کوئی جواب ہی نہیں دے رہے اور نہ ہی کچھ بتا رہے ہیں، ہمیں کیا معلوم بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کیا بنا، علاج سے متعلق چھپایا جا رہا ہے شکوک و شبہات پیدا کیے جا رہے ہیں، عید پر کیا عمران خان کو تو جیل میں ہونا ہی نہیں چاہیے۔
علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ عید کا موقع بھی گزر گیا لیکن ہمیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی، عید کے بعد پہلا منگل آیا ہے آج تو ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے، ہم اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے آئے ہیں جب تک ملاقات نہیں ہو جاتی ہم یہیں بیٹھیں گے ، یہ ہمارا اور بانی پی ٹی آئی کا آئینی و قانونی حق ہے، ملاقات نہ کروانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
| فقہ جعفری | فقہ حنفی | شہر | ||
|---|---|---|---|---|
| افطار | سحر | افطار | سحر | |