پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کو آنکھ کے علاج کے سلسلے میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کے تفصیلی معائنے کے بعد مائیکرو اسکوپی کی مدد سے انجکشن لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ماہرین چشم نے جدید طبی آلات اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے یہ عمل مکمل کیا، جس کا مقصد آنکھ کی موجودہ حالت کو بہتر بنانا اور مزید پیچیدگیوں سے بچاؤ تھا۔
انتظامیہ کے مطابق پروسیجر سے قبل مریض کا مکمل طبی جائزہ لیا گیا، دورانِ عمل ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھی گئی جبکہ بعد ازاں بھی انہیں مکمل نگرانی میں رکھا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ پیچیدگی سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بروقت اور مناسب علاج کے باعث مریض کی آنکھ میں واضح بہتری آئی ہے اور ان کی حالت تسلی بخش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عید پر جیل سے عمران خان کا اہم پیغام آگیا
مزید بتایا گیا کہ آپریشن تھیٹر میں تمام حفاظتی اقدامات اور بین الاقوامی طبی پروٹوکولز پر سختی سے عمل کیا گیا، جس کے باعث پروسیجر بغیر کسی رکاوٹ کے کامیابی سے مکمل ہوا۔ طبی ٹیم میں شامل ماہرین نے اس عمل کو ایک معمول کا مگر نہایت حساس پروسیجر قرار دیا، جس میں مہارت اور احتیاط دونوں انتہائی ضروری ہوتی ہیں۔
پروسیجر مکمل ہونے کے بعد بانی پی ٹی آئی کو کچھ دیر تک ہسپتال میں زیر نگرانی رکھا گیا، تاہم طبی ماہرین کی جانب سے اطمینان بخش رپورٹ ملنے پر انہیں ڈسچارج کر دیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ نے انہیں فالو اپ کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کیں اور ضروری ادویات و دستاویزات بھی فراہم کیں تاکہ علاج کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جا سکے۔
پمز انتظامیہ کے مطابق عمران خان انجکشن لگوانے کے بعد بحفاظت اڈیالہ جیل روانہ ہو گئے، جہاں ان کی مزید طبی دیکھ بھال جاری رکھی جائے گی۔ ڈاکٹروں نے امید ظاہر کی ہے کہ مناسب علاج اور احتیاطی تدابیر پر عمل سے ان کی آنکھ کی صحت میں مزید بہتری آئے گی۔
| فقہ جعفری | فقہ حنفی | شہر | ||
|---|---|---|---|---|
| افطار | سحر | افطار | سحر | |