مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، سیاسی اور عسکری قیادت چیلنجز کو نمٹنے کیلئے سرخرو ہو رہی ہے، پاکستان کو اس وقت تاریخ میں عالمی طور پر اہمیت حاصل ہے، پاکستان نے ایران پر حملے کی مذمت کی اور ان کے ساتھ یکجہتی کی، پاکستان کو ایران، سعودی عرب اور عرب امارات کا اعتماد حاصل ہے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حوالہ سے پاکستان کا موقف اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کے مطابق ہے، پاکستان نہ تو جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے اور نہ افغانستان کے کسی حصہ پر قبضہ چاہتا ہے، پاکستان کا ایک ہی مطالبہ ہے افغانستان اپنی زمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دینی چاہئے، افغانستان یقین دہانی کروا دے تو ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان
انہوں نے کہا کہ آپریشن غضب اللحق پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کمین گاہوں اور ٹھکانوں کے خاتمہ کیلئے ہے، ایک مرتبہ صفایا کر دیا ہے اگر ایسے ٹھکانے استعمال ہوئے تو اس پر نظر رکھی جائے گی، حکومت سیاسی رواداری اور سیاسی عمل کو جاری رکھنے پر یقین رکھتی ہے، وزیر اعظم نے میثاق استحکام کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی، موجودہ صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر میثاق استحکام پاکستان کا حصہ بننا چاہئے، سیاسی قیادت کو وزیر اعظم کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہئیں۔
لیگی رہنما نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کیخلاف مقدمات ہم نے تو نہیں دئیے، عدالتوں نے فیصلے کئے اور سزائیں دی ہیں، کسی بے گناہ کو سزا نہیں ہوئی، ملک کے دفاع کے ضامن ادارے کیخلاف 9 مئی کو سازش ہوئی اس پر کاروائی تو ہونی چاہئے، عمران خان کے خلاف توشہ خانہ اور دیگر کیسز واضح ہیں، دنیا میں کہیں کوئی معاملہ بنے تو ہم اپنے ملک میں جلاؤ گھیراؤ شروع کر دیتے ہیں، کسی ایک فرقہ کے خلاف نہیں سب کو مساوی اور برابری کے حقوق ہیں، دنیا کے کسی اسلامی ملک میں اس طرح ردعمل نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ سعودئ عرب کے ساتھ معاہدہ کے پابند ہیں مگر ضروری نہیں ہم نے کسی پر حملہ کرنا ہے، پاکستان ایران اور سعودی عرب کے مابین افہام و تفہیم سے معاملہ کو لے کر چل رہے ہیں، افغانستان معاملہ پر کے پی کے کی حکومت قومی مفاد کی بجائے اپنے سیاسی اور گروہی مفاد کو ترجیح دے رہی ہے، کے پی کے حکومت کو ن لیگ نہیں ملک کا ساتھ تو دینا چاہئے، عوام احتجاج کی کال دینے والوں کو مسترد کر رہے ہیں، ہماری سیاسی رواداری اور سیاسی عمل کو چلانے کی پالیسی کو عوام میں پذہرائی مل رہی ہے۔
ان کہنا تھا کہ یہ ڈیل کیلئے تیار ہیں مگر سیاسی عمل چلانے کیلیے تیار نہیں ہیں، ڈیل کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ان کو دوبارہ موقع دیا جائے، پی ٹی آئی کے لوگوں کو بار بار کہہ رہے ہیں سیاسی ڈائیلاگ کا حصہ بنیں، ایک دفعہ ان کو موقع مل گیا، اب ڈیل کسی صورت نہیں ہو سکے گی۔ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن جلد ہوں گے، پنجاب حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے، تیاری ہو چکی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے اگر صرف والد سے ملاقات کیلئے آرہے ہیں تو سہولت دی جا سکتی ہے، اگر ان کے آنے کا مقصد سیاسی طور پر عالمی سطح پر پاکستان مخالف بیانیہ بنانا چاہتے ہیں تو اس کو دیکھنا ہوگا۔
| فقہ جعفری | فقہ حنفی | شہر | ||
|---|---|---|---|---|
| افطار | سحر | افطار | سحر | |