محکمہ جیل خانہ جات سندھ نےقیدیوں کی سزاؤں میں کمی کا حکم نامہ جاری کر دیا۔
حکمنامہ کے مطابق قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مقدمات میں سزا یافتہ رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے، قتل کےمقدمات میں سزا یافتہ، جاسوسی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث قیدیوں کو بھی رعایت نہیں ملےگی۔
اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سندھ کی جیلوں میں قید سزا یافتہ قیدیوں کو عید کے موقع پر سزا میں 90 روز کی معافی دی جائے گی، دہشت گردی، جاسوسی، سبورژن اور ریاست دشمن سرگرمیوں میں ملوث قیدیوں پر رعایت کا اطلاق نہیں ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ قتل، زیادتی اور اغوا برائے تاوان کے سنگین جرائم کے قیدی رعایت سے محروم رہیں گے، ڈکیتی، رہزنی اور مالی غبن کے مقدمات میں سزا یافتہ قیدیوں کو بھی کوئی رعایت نہیں ملے گی، منشیات ایکٹ (نارکوٹکس) اور فارنرز ایکٹ کے تحت سزا پانے والے قیدی اس معافی کے اہل نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا وزیراعظم سے عید پر عمران خان کی اہلخانہ سے ملاقات کا مطالبہ
مراد علی شاہ نے کہا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور مالی بدعنوانی کے قیدیوں کے لیے بھی کوئی رعایت نہیں،عمر قید کے قیدیوں کی سزا میں رعایت سے ان کی 15 سالہ کم از کم سزا کی مدت متاثر نہیں ہوگی، سزا میں رعایت کا اطلاق ان قیدیوں پر ہو گا جو جیل قوانین (رول 789) کی شرائط پر پورا اترتے ہوں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی جیل خانہ جات کو سزا میں کمی کے احکامات پر فوری عمل درآمد اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
ان کا کہنا تھا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عید کے موقع پر قیدیوں کی سزا میں 90 روز کی کمی کا فیصلہ کیا ہے، ہم چاہتے ہیں معمولی جرائم میں ملوث قیدی جلد اپنی سزا مکمل کر کے اپنے پیاروں کے پاس واپس جائیں، سزا میں رعایت کا مقصد قیدیوں کو معاشرے کا ایک بہتر اور کارآمد شہری بننے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ عمر قید کے قیدیوں کے لیے عدالتی فیصلوں اور جیل مینوئل پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، اچھے اخلاق اور جیل کے اندر مثبت رویہ رکھنے والے قیدیوں کی حوصلہ افزائی ہمارا فرض ہے، ہم سندھ کی جیلوں کو محض قید خانہ نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں اصلاحی مراکز بنانا چاہتے ہیں۔