پھر سمعیہ قلندرانی ، ماہکان بلوچ ، ماہل بلوچ ، زرینہ رفیق بلوچ ، ہوا بلوچ ، آسیہ مینگل اور کئی خواتین خودکش دھماکے کر چکی ہیں اور درجنوں خواتین اس وقت بی ایل اے کے کیمپس میں موجود ہیں جن کی ٹریننگ کی ویڈیوز خود بی ایل اے جاری کرتی ہے۔
بی وائی سی سے قبل بلوچستان کی تاریخ میں خواتین کی جانب سے خودکش حملوں کی کوئی روایت موجود نہیں تھی حالانکہ شورش 1947 سے چلی آرہی ہے ، دستیاب شواہد یہی بتاتے ہیں کہ بی وائی سی بظاہر لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کی بات کرتی ہے لیکن پسِ پردہ یہ تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے لیے ایک بھرتی مرکز کا کام کر رہی ہے۔
بی وائی سی کے پلیٹ فارم سے ریاستِ پاکستان کو "قابض، ظالم اور نوآبادیاتی قوت" کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، یہ بیانیہ نوجوان خواتین اور کم عمر بچوں کے ذہنوں میں نفرت بھرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ، خضدار سے خاتون خودکش بمبار گرفتار
صبیحہ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی تقاریر میں مستقل طور پر "بلوچ راج" اور ریاست کے خلاف مزاحمت کا جو درس دیا جاتا ہے، وہ براہِ راست عسکریت پسندی کی راہ ہموار کرتا ہے، یہ بات اب ریکارڈ پر موجود ہے کہ جن خواتین نے خودکش حملے کیے، ان کا کسی نہ کسی سطح پر بی وائی سی کے احتجاجی کیمپوں یا ان کے بیانیے سے تعلق رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بی وائی سی وہ خام مال فراہم کرتی ہے جسے بی ایل اے کا 'مجید بریگیڈ' بارود میں تبدیل کر دیتا ہے۔