محکمہ تعلیم نے باضابطہ طور پر تعلیمی اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے احاطے میں درسی کتب، کاپیاں، اسٹیشنری، یونیفارم، بیجز یا ٹائیز فروخت نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے دکانداروں سے کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں۔
اسکولوں کو یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ طلبہ کو کسی مخصوص دکاندار سے کتابیں یا یونیفارم خریدنے پر مجبور نہیں کریں گے۔ حکام کے مطابق اس پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے یا ان کی رجسٹریشن بھی منسوخ کی جا سکتی ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب راولپنڈی ڈویژن میں سالانہ امتحانات، نتائج اور نئے داخلوں کا عمل شروع ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرانسپورٹرز کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
اس پابندی کے باوجود، والدین اور طلبہ نے شکایت کی ہے کہ کچھ بڑے نجی اسکول اب بھی اپنے آؤٹ لیٹس کے ذریعے کتابیں، اسٹیشنری اور یونیفارم فروخت کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں درسی کتب، یونیفارم اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ایک والدین کے مطابق متعلقہ حکام پہلے ہی ان اسکولوں سے آگاہ ہیں جو اس عمل میں ملوث ہیں۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی راولپنڈی کے نئے تعینات ہونے والے ایگزیکٹو آفیسر نے کہا ہے کہ اسکولوں کی روزانہ نگرانی کی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔