دستاویزات کے مطابق اس وقت ملکی ریفائنریز کے پاس خام تیل کے تقریباً 3 لاکھ 92 ہزار میٹرک ٹن ذخائر موجود ہیں، جبکہ ملک میں یومیہ خام تیل کی کھپت تقریباً 36 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ذخائر 4 لاکھ 4 ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ اس کی یومیہ کھپت تقریباً 19 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ذخائر 27 دن تک کے لیے کافی قرار دیے گئے ہیں۔
پیٹرول کے حوالے سے بھی صورتحال تسلی بخش بتائی جا رہی ہے۔ ملک میں اس وقت 5 لاکھ 64 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول دستیاب ہے، جبکہ یومیہ کھپت تقریباً ساڑھے 20 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ اس حساب سے پیٹرول کے موجودہ ذخائر بھی 27 دن کے لیے کافی ہیں۔ علاوہ ازیں ایل پی جی کے ذخائر 54 ہزار میٹرک ٹن ہیں، جبکہ اس کی یومیہ کھپت تقریباً 6 ہزار میٹرک ٹن بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالفطر پر بجلی بلا تعطل فراہم کرنے کا اعلان
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کمرشل طیاروں میں استعمال ہونے والے ایندھن کے بھی 14 دن کے ذخائر دستیاب ہیں، جو فضائی آپریشنز کے تسلسل کے لیے کافی ہیں۔ حکومت نے نہ صرف موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ذخائر کو یقینی بنایا ہے بلکہ آئندہ مہینے کے لیے بھی پیشگی اقدامات کر لیے ہیں۔
رواں ماہ کے دوران 6 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن خام تیل درآمد کیا جائے گا، جبکہ ایک لاکھ 51 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل اور 2 لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول بھی درآمد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حکومت نے اپریل کے لیے بھی کارگوز کا بندوبست مکمل کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی ارمکو سے 2 لاکھ 70 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول کے کارگوز حاصل کیے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باعث ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہیں ہوگا اور عوام کو مسلسل دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔