جرائم کے خاتمے اور عوامی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے سی سی ڈی کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سی سی ڈی کو دنیا کے پانچ بہترین جرائم کنٹرول کرنے والے اداروں کی طرز پر استوار کیا جائے گا۔
جدید فارنزک، تفتیشی مہارتوں، ماڈرن ٹیکنالوجی، اے آئی سافٹ ویئر، جدید ترین انٹیلی جنس سرویلنس، مشینری اور آلات سے سی سی ڈی کو پاکستان کے سب سے جدید ترین ادارے میں بدلا جائے گا، مجرموں کا سراغ لگانے اور ان کی مانیٹرنگ کے جدید ترین آلات بھی سی سی ڈی کو فراہم کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے سی سی ڈی کا جدید ترین آلات سے لیس ہیڈکوارٹر بنانے کی بھی منظوری دے دی، پنجاب کے ہر ڈویژن، ضلع اور تحصیل میں سی سی ڈی آفس، تھانے اور رہائش گاہیں بنانے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا، عید الفطر کے بعد پنجاب بھر میں غیر قانونی اسلحے کے خلاف مہم کی بھی منظوری دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لیپ ٹاپ اسکیم فیز 2 کی درخواستوں کی آخری تاریخ میں توسیع
سی سی ڈی کے اقدامات سے پنجاب میں قتل اور خواتین کے خلاف جرائم میں نمایاں کمی آئی، سی سی ڈی کے اقدامات کے بعد پنجاب میں ڈکیتی کے واقعات میں گزشتہ سال کی نسبت 77فیصد کمی آئی،موبائل اور بیگ چھننے کے واقعات میں 49 فیصد، گاڑی چوری میں 17، اقدام قتل میں 31، اغوا برائے تاوان کے واقعات میں 45 فیصد کمی آئی۔
غیرقانونی اسلحہ کے سدباب کے لئے نیا قانون بنانے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا،وزیراعلیٰ مریم نواز نے خواتین پر تیزاب چھڑکنے والوں سے نمٹنے کا ٹاسک بھی سی سی ڈی کو دے دیا جبکہ سی سی ڈی میں جرائم کے خاتمے کے جدید تحقیقی مرکز بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔