وزیر خزانہ نے بتایا کہ پٹرول سٹاک 28، خام تیل 10 اور ایل پی جی 15 روز کیلئے موجود ہے، بچت کرنا ہوگی۔ وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دے رہے تھے، گورنر سٹیٹ بینک نے مزید کہا رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد تک رہ سکتا ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان متوقع ہے۔ جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر اور دسمبر 2026 تک سوا 20 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں مرکزی بینک 24 ارب ڈالر مارکیٹ سے خرید چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات سالانہ کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر قرض رول اوور کر رہا ہے اور آئی ایم ایف کو اس سے آگاہ کر دیا گیا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے اور اگر علاقائی کشیدگی برقرار رہی تو توانائی کے استعمال پر نظرثانی اور انرجی کنزرویشن اقدامات کرنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان
وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اب استنبول سے ورچوئل جاری ہیں اور قطر سے ایل این جی کارگو کی آمد سے صورتحال مزید بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال 4 اعشاریہ 3 ٹریلین روپے کے ترقیاتی بجٹ میں صوبے بھی شامل ہیں جبکہ اخراجات میں کمی کے لیے رائٹ سائزنگ کمیٹی کام کر رہی ہے۔
کمیٹی اجلاس میں ایف بی آر ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا گیا۔ چیئرمین ایف بی آر کی تعیناتی اور اختیارات سے متعلق اعتراضات بھی سامنے آئے، تاہم وزیر خزانہ نے کہا کہ پالیسی بورڈ سے متعلق امور زیر غور ہیں اور بدعنوانی جہاں بھی ہوگی احتساب کیا جائے گا۔اجلاس میں ایس ای سی پی ترمیمی بل 2026 پر بھی غور کیا گیا۔ سرکاری اور نجی ممبران کی نمائندگی سے متعلق ترامیم پر اختلاف سامنے آیا، جس پر مزید مشاورت کا فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب ملک میں تیل کے ذخائر کی مناسب دستیابی کے باوجود آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پٹرول پمپوں کو ڈیزل کی سپلائی 70 فیصد اور پٹرول کی فراہمی 50 فیصد کم کر کے مصنوعی قلت پیدا کردی، ذرائع نے بتایا ہے کہ عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیزی نے پٹرول40 روپے اور ڈیزل 70 روپے لٹر تک مہنگا کردیا ہے جس سے ملکی سطح پر پٹرول و ڈیزل کے نرخوں میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے مصنوعی قلت پیدا کرکے ذخائر کو روک لیا گیا ہے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے آئل ڈپوز پر پٹرول پمپوں کو سپلائی کرنے والے آئل ٹینکرز کی طویل قطاریں لگنے لگی ہیں، ـ آئل کمپنیوں کی جانب سے سپلائی پر کیپنگ یا ایلوکیشنز لگائی جارہی ہیں ـ ،سپلائی کم ہونے کی وجہ سے ڈیزل کی فروخت مختلف شہروں میں بری طرح متاثر ہوگئی ہے اور کئی علاقوں میں ڈیزل کی فروخت معطل ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔ صدر پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن لاہور نعمان مجید نے بتایا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پٹرول پمپوں پر ضرورت سے کم سپلائی کی جارہی ہے۔