یہ اپنی نوعیت کی پہلی تاریخی تقریب ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کو ریاست کی تعمیر و ترقی کے عمل میں مؤثر انداز میں شامل کرنا ہے۔
کنونشن کی سرپرستی وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری فیصل ممتاز راٹھور کر رہے ہیں جبکہ تقریب میں وفاقی وزراء، ریاستی وزراء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات بھی شریک ہیں، دنیا بھر سے سینکڑوں اوورسیز کشمیری وفود اور سرمایہ کار مظفرآباد پہنچ چکے ہیں جن کا کوہالہ کے مقام پر پرتپاک اور تاریخی استقبال کیا گیا۔
کنونشن کا بنیادی مقصد بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو آزاد کشمیر میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا ہے بالخصوص سیاحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ہائیڈل پاور اور منرلز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے جا رہے ہیں، حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کو دستیاب سہولیات اور مراعات سے بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔
اوورسیز کشمیریوں کے مسائل کے حل کے لیے حکومت نے متعدد اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں اوورسیز کشمیریوں کے لیے خصوصی علیحدہ عدالتوں (اسپیشل کورٹس) کے قیام کا ارادہ، ون ونڈو آپریشن کے تحت سرمایہ کاری کے عمل کو آسان اور شفاف بنانا، وزیراعظم آزاد کشمیر ویب پورٹل کے قیام کے ذریعے اوورسیز کی شکایات اور مسائل کا فوری ازالہ اور ایک مربوط اور مؤثر نظامِ عدل کے نفاذ کی تیاری شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقدامِ قتل کیس: عدالت کا عمران خان کو گرفتار نہ کرنیکا حکم
کنونشن کے دوران مختلف موضوعات پر پینل گروپ ڈسکشن اور پالیسی ڈائیلاگ منعقد کیے جائیں گے، ماہرین اور سرمایہ کاروں کی تجاویز کی روشنی میں جامع پالیسی مرتب کی جائے گی تاکہ ریاست میں سرمایہ کاری کے عمل کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
کنونشن میں آرٹ اینڈ کلچر شوز کا بھی اہتمام کیا گیا ہے تاکہ اوورسیز کشمیریوں کو اپنی ثقافتی روایات سے جوڑا جا سکے اور ریاست کا مثبت تشخص اجاگر ہو۔
حکومت آزاد کشمیر اس کنونشن کو ریاست کی معاشی ترقی کے لیے ایک گیم چینجر قرار دے رہی ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس تاریخی اقدام کے مثبت اثرات مستقبل قریب میں نمایاں طور پر سامنے آئیں گے۔