اپوزیشن کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ
سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان و اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزائی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی قیادت پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر دھرنا دے گی/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک): اپوزیشن نے عمران خان سے ملاقات اور ان کے مکمل علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ کرلیا۔

سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان و اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پر امن احتجاجی دھرنا شروع ہوگا۔ ہمارے مطالبات ہم دھرنے میں رکھیں گے اور مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا جاری رہے گا، مطالبات تسلیم کرنے میں خدانخواستہ کچھ غلط ہوا تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: سعد رفیق نے عمران خان کے لیے آواز اٹھا دی

ذرائع کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی قیادت پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر دھرنا دے گی۔ اس حوالے سے تمام ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں تاکہ وہ دھرنے میں شرکت کریں اور اس میں مکمل تعاون کریں۔ اس کے علاوہ، تمام ٹکٹ ہولڈرز کو بھی اسلام آباد پہنچنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ وہ اس احتجاج کا حصہ بنیں اور اپوزیشن کا موقف مضبوط کریں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت کی مشاورت کے دوران کیا گیا۔ اس مشاورتی اجلاس میں اہم رہنماؤں نے دھرنے کے بارے میں غور و فکر کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھنے کے لیے یہ احتجاج ضروری ہے۔ اپوزیشن کے سینیٹرز کو بھی اس دھرنے میں شرکت کی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ وہ بھی اپنے موقف کا اظہار کریں اور پارلیمنٹ کے باہر اپوزیشن کی قوت کو اجاگر کیا جا سکے۔

دھرنے کے بارے میں اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے آئینی حقوق کی حفاظت اور ملک کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے۔