اسلام آباد میں مستحق طلبہ کیلئے شروع کیا گیا مفت دوپہر کے کھانے کا منصوبہ بتدریج وسعت اختیار کر گیا ہے اور اب یہ سہولت وفاقی درالحکومت کے سینکڑوں تعلیمی اداروں تک پہنچ چکی ہے۔
وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے مطابق اس وقت 57 ہزار 45 طلبہ کو روزانہ باقاعدگی سے کھانا فراہم کیا جارہا ہے جبکہ مجموعی طور پر 254 ادارے اس پروگرام کا حصہ بن چکے ہیں۔
وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ وفاقی نظامت تعلیم کے زیر انتظام 222 سرکاری اسکولوں میں بچوں کو باقاعدہ کھانا دیا جارہا ہے، منصوبے کے اخراجات کا 75 فیصد حصہ حکومت ادا کر رہی ہے جبکہ باقی پچیس فیصد رقم اور ترسیل کے انتظامات ایک فلاحی ادارے کے ذمہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاسپورٹ بنوانے والوں کیلئے نئی فیسوں کا اعلان
علاقہ وار تفصیلات کے مطابق شہری علاقوں کے ساٹھ اسکولوں میں 25 ہزار سے زائد بچے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ سہالہ، نیلور، بھارہ کہو اور ترنول کے درجنوں اداروں میں بھی ہزاروں طلبہ کو یہ سہولت حاصل ہے۔
خصوصی تعلیم کے مراکز میں زیر تعلیم بچوں کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا گیا ہے تاکہ کوئی طالب علم غذائی کمی کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہے۔
یہ پروگرام ابتدائی طور پر چند اسکولوں سے شروع ہوا تھا مگر اضافی مالی تعاون کے بعد اسکا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔