وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی خصوصی اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہواجس میں نیپرا کے نئے ریگولیشنز کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطااللہ تارڑ، علی پرویز ملک، سردار اویس خان لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر نجکاری محمد علی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیپرا کی جانب سے سولر توانائی سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ موجودہ سولر صارفین کے کنٹریکٹس کے تحفظ کے لیے فوری طور پر نظرِ ثانی کی اپیل دائر کرے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ موجودہ صارفین کے معاہدوں کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جائے تاکہ پالیسی میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے سے مستفید ہونے والے صارفین متاثر نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا ؟ تاریخ سامنے آگئی
وزیراعظم ہدایت کی کہ سولر سے مستفید ہونے والے 4 لاکھ 66 ہزار صارفین کا مالی بوجھ 3 کروڑ 76 لاکھ سے زائد ایسے صارفین پر نہ پڑے جو صرف نیشنل گرڈ سے بجلی استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس سلسلے میں پاور ڈویژن کو ایک جامع اور متوازن لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔