سرکلر کے مطابق، ریٹائرڈ ملازمین کو اب طبی سہولتوں کے لیے انشورنس کمپنی میں رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ، پنشن کے حصول کے لیے انہیں اپنے پنشن کے لیے مخصوص بینک میں اکاؤنٹ کھولنا ہوگا۔ متعلقہ بینک سے اس اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے ایک سرٹیفکیٹ بھی فراہم کرنا ہوگا، جو کہ ان ملازمین کو بینک سے حاصل کرنا ہوگا۔ ان اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ پنشن کے حصول کے عمل میں مزید شفافیت لائی جا سکے اور یہ کہ ملازمین کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پروٹیکٹڈ صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز
اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ ریٹائرڈ ملازمین جو 30 ستمبر 2023 یا اس سے قبل ریٹائر ہوچکے ہیں، ان کو ان احکامات پر عمل درآمد 15 فروری سے قبل کرنا ہوگا۔ اس عمل کی تکمیل کے لیے ریٹائرڈ ملازمین کو پی آئی اے کے میڈیکل سینٹرز پر جا کر اپنے قومی شناختی کارڈ کے ساتھ بائیو میٹرک تصدیق کرانی ہوگی تاکہ ان کی رجسٹریشن مکمل ہو سکے۔ یہ بائیو میٹرک تصدیق ایک اہم قدم ہے جس کے بغیر طبی سہولتوں کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔
اس سرکلر کے مطابق، جو ملازمین رجسٹرڈ نہیں ہوں گے، انہیں پی آئی اے میڈیکل سینٹرز پر دستیاب صحت کی سہولتیں نہیں دی جائیں گی۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ تمام ریٹائرڈ ملازمین یہ عمل مکمل کر لیں، پی آئی اے نے انہیں واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ وہ 30 ستمبر 2023 یا اس سے قبل کے ریٹائرڈ ملازمین اپنے پنشن بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کریں تاکہ ان کے پنشن کے معاملات بروقت حل ہو سکیں۔
یہ احکامات پی آئی اے کی انتظامیہ کی جانب سے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پنشن کے معاملات میں آسانی اور شفافیت لانے کے لیے اٹھایا گیا ایک اہم قدم ہے۔ اس سے نہ صرف ملازمین کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ ان کے پنشن کے معاملات بھی بہتر انداز میں حل ہوں گے۔