سی ایس ایس امتحانات، فیڈرل پبلک سروس کا موقف آگیا
فیڈرل پبلک سروس کمیشن
فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے سی ایس ایس 2026 کے لاہور امتحانی مرکز سے متعلق بعض حلقوں کا پراپیگنڈا مسترد کیا/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک): فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے سی ایس ایس 2026 کے لاہور امتحانی مرکز سے متعلق بعض حلقوں کا پراپیگنڈا مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امتحانات 4 سے 15 فروری تک شیڈول کے مطابق جاری ہیں، امیدواروں کو قواعد و ضوابط کے مطابق تمام سہولیات دستیاب ہیں۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پرچے مقررہ وقت پر شروع و ختم ہوئے ہیں، امیدواروں کو قواعد کے مطابق امتحان میں شامل کیا گیا، امتحانی ہدایات ویب سائٹ اور ایڈمیشن سرٹیفکیٹ پر واضح ہیں، بعض کوچنگ اکیڈمیز سے وابستہ افراد کی جانب سے غلط رپورٹنگ کی گئی جس پر قانونی کارروائی کا حق محفوظ ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ سی ایس ایس 2026 کا مسابقتی امتحان 4 فروری سے 15 فروری تک ملک بھر میں قائم 136 امتحانی مراکز پر جاری ہے، امیدواروں کی سہولت کے پیشِ نظر ایف پی ایس سی نے اس سال روزانہ دو لازمی پرچوں کے بجائے ایک پرچہ فی دن لینے کا فیصلہ کیا، جبکہ لازمی پرچوں کے آغاز کا وقت بھی صبح 9 بجے کے بجائے 11 بجے مقرر کیا گیا۔

ایف پی ایس سی کے مطابق 4 فروری کو لاہور میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے زیرِ انتظام قائم امتحانی مرکز میں بعض امیدواروں کو مبینہ طور پر وقت پر داخلے نہ ملنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر کمیشن نے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا، تحقیقاتی بورڈ نے دستیاب ٹھوس شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں واقعے کا تفصیلی جائزہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کرپشن میں کمی، ٹرانسپیرنسی رپورٹ جاری

لاہور کا یہ امتحانی مرکز سی ایس ایس 2026 کے بڑے مراکز میں شامل ہے، جو 23 امتحانی ہالز پر مشتمل، جدید سہولیات سے آراستہ اور آسان رسائی کے مقام پر واقع ہے، جہاں 4 ہزار 110 امیدوار رجسٹرڈ تھے، امتحانی ہدایات کے مطابق امیدواروں کو پرچے کے آغاز سے 50 منٹ قبل اپنی نشستوں پر بیٹھنا تھا، جبکہ امتحان صبح 11 بجے شروع ہونا تھا۔

ایف پی ایس سی کے مطابق دیگر بڑے امتحانات، بشمول ایم ڈی کیٹ، میں بھی امیدواروں کو ایک گھنٹہ قبل نشست پر بیٹھنے کی ہدایت دی جاتی ہے تاکہ ضروری انتظامی اقدامات بروقت مکمل کیے جا سکیں، ایف پی ایس سی کے مطابق امتحانی عملہ بروقت مرکز پہنچ گیا تھا اور تمام ایس او پیز کے مطابق تیاریاں مکمل کی گئیں۔

مرکزی دروازہ اور امتحانی ہالز صبح 9 بج کر 40 منٹ پر کھول دیے گئے، جبکہ صبح 10 بج کر 10 منٹ تک زیادہ تر امیدوار داخل ہو چکے تھے۔ ایس او پیز کے تحت مرکزی دروازہ صبح 10 بج کر 14 منٹ پر بند کیا گیا، تاہم تقریباً ایک ہزار سے بارہ سو امیدوار تاخیر سے پہنچے اور داخلے کے خواہاں تھے۔

صورتحال کے پیشِ نظر چیف سپروائزر نے صبح 10 بج کر 27 منٹ پر دروازہ دوبارہ کھول کر تاخیر سے آنے والے امیدواروں کو داخلے کی اجازت دی، جس کے بعد صبح 10 بج کر 32 منٹ پر دروازہ دوبارہ بند کر دیا گیا، بعد ازاں مزید امیدواروں نے زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود ایف پی ایس سی عملہ امتحان مقررہ وقت پر شروع اور ختم کرنے میں کامیاب رہا۔

ایف پی ایس سی کے مطابق ادارے کی ویب سائٹ اور تمام امیدواروں کے ایڈمیشن سرٹیفکیٹس پر واضح طور پر درج تھا کہ امیدواروں کو پرچے کے آغاز سے کم از کم 50 منٹ قبل نشست پر بیٹھنا ہو گا اور تاخیر سے داخلہ نہیں دیا جائے گا، اس کے باوجود کمیشن نے انسانی ہمدردی کے تحت تاخیر سے آنے والے تمام امیدواروں کو امتحان میں شرکت کی اجازت دی۔

ایف پی ایس سی نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض افراد اور سی ایس ایس کوچنگ اکیڈمیوں سے وابستہ حلقوں نے بغیر شواہد واقعے کی غلط رپورٹنگ کی اور اسے سوشل میڈیا پر گمراہ کن انداز میں پیش کیا، کمیشن نے واضح کیا ہے کہ امتحانی پالیسیوں اور ایس او پیز پر سختی سے عمل جاری رکھا جائے گا، جبکہ واقعے کی غلط رپورٹنگ اور استحصال کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھا گیا ہے۔