وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین صدر وفاق مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، سینئر نائب صدرمولانا انوار الحق، ناظم اعلٰی وفاق المدارس مولانا محمد حنیف جالندھری اوردیگر نے اسلام آباد امام بارگاہ میں ہونے والے خود کش حملے کو افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کی جان لینے اور خون بہانے کی ہرگز اجازت نہیں، مساجد، امام بارگاہوں اور مدارس میں ایسی وارداتیں کرنے والے انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں، ایسی خون ریز کارروائیاں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے مترادف ہیں۔
وفاق المدارس کے قائدین کا کہنا تھا کہ اس خونریز اور ظالمانہ کارروائی میں ملوث عناصر کے نیٹ ورک کا سراغ لگا کر انہیں نشان عبرت بنایا جائے، ملک بھر کی تمام مساجد،امام بارگاہوں اور مدارس کو فول پروف سکیورٹی مہیا کی جائے۔
دوسری جانب پاکستان کے علماء و مشائخ نے فرقہ واریت پھیلانے کی بھارت نواز سازش ناکام بنا دی، قومی پیغامِ امن کمیٹی نے سانحہ ترلائی کے بعد اتحادِ اُمت اور قومی یکجہتی کا واضح پیغام دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سب سے طویل اور مختصر روزہ کن ممالک میں ہوگا؟
علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے مشترکہ دورہ کیا اور دھماکے کے متاثرہ زخمیوں کی عیادت اور ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعائیں کی جبکہ شہداء کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیا۔
علماء نے امام بارگاہ اور مسجد خدیجۃ الکبریٰ کا بھی دورہ کیا جو نفرت کے مقابلے میں احترام، ہم آہنگی اور یکجہتی کی علامت ہے۔
مدارس بورڈز اور دینی قیادت کا متفقہ مؤقف ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رہے گی، علماء و مشائخ نے اعلان کیا کہ افواجِ پاکستان اور سلامتی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، سانحہ ترلائی کا مقصد نفرت اور تشدد تھا، دینی قیادت نے بروقت اتحاد سے بیانیہ دفن کر دیا۔
پاکستان دشمن قوتیں فرقہ وارانہ تقسیم چاہتی ہیں، قومی پیغامِ امن کمیٹی نے سازش کو بے نقاب کر دیا، تمام مکاتبِ فکر نے مشترکہ مؤقف اپنایا کہ پاکستان کی سلامتی و استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، ملک میں امن، برداشت اور بین المسالک ہم آہنگی کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔
دینی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف متحدہ حکمتِ عملی پر اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اتحاد و یکجہتی کی ایسی سرگرمیاں مستقل بنیادوں پر جاری رہیں گی۔