انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک اپ کی درخواست پر سماعت کی، بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک عدالت پیش ہوئے۔
وکیل فیصل ملک نے موقف اپنایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل میں ذاتی معالج کی سہولت حاصل رہی ہے، بانی پی ٹی آئی بھی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں برابری کے سلوک کے مستحق ہیں، اڈیالہ جیل میں آنکھوں کی ٹریٹمنٹ کا انتظام نہیں ہے، عمران خان انڈر ٹرائل قیدی ہیں ان کا ذاتی معالج سے میڈیکل چیک اپ حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی کا پی ٹی آئی کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان
عمران خان کے وکیل نے کہا کہ رول 795 کے مطابق بانی کے علاج سے قبل انکی فیملی کو آگاہ کرنا ضروری ہے، تین سال میں بانی کو کبھی جیل سے باہر نہیں لے جایا گیا، ایسے کیا غیر معمولی حالات بنے بانی کو رات گئے پمز ہسپتال لے جانا پڑا، عدالت سے استدعا ہے بانی کے ذاتی معالجین کو اڈیالہ جیل میں رسائی دی جائے۔
اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک اپ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی انڈر ٹرائل قیدی نہیں ہیں، 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں بانی پی ٹی آئی ضمانت پر ہیں، عمران خان جی ایچ کیو کیس میں انڈر ٹرائل ملزم ہے قیدی نہیں، کریمینل کورٹ کے پاس اختیار نہیں ضمانت پر کسی ملزم کی کسٹڈی کو ریگولیٹ کرے۔
پراسیکیوٹر ظہیرشاہ نے کہا کہ یہ کوئی آئینی عدالت نہیں کریمینل کورٹ ہے، کسی بھی قیدی کے علاج معالجے کیلئے حکومت ڈاکٹرز کا تعین کرتی ہے، پاکستان پرزن رولز میں پرائیویٹ ڈاکٹرز سے علاج کرانے کا کوئی ذکر نہیں، کسی بھی قیدی کیلئے ذاتی معالج کا پرزن رولز میں کوئی رول نہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد بانی کیلے ذاتی معالجین کی اڈیالہ جیل میں رسائی کی درخواست خارج کردی۔