پشاور: ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سول جج نوکری سے فارغ
پشاور ہائیکورٹ
پشاور ہائیکورٹ نے ضابطۂ اخلاق اور ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی پر مردان میں تعینات سینئر سول جج کو ملازمت سے برطرف کیا/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک) پشاور ہائیکورٹ نے ضابطۂ اخلاق اور ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی پر مردان میں تعینات سینئر سول جج کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔ ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق برطرف کیے گئے افسر سینئر سول جج اعجاز الحق اعوان تھے، جن کے خلاف دورانِ ملازمت متعدد شکایات سامنے آئیں۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ سینئر سول جج پر عدالتی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف باقاعدہ ڈسپلنری کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد جج کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تاکہ وہ اپنے طرزِ عمل سے متعلق وضاحت پیش کر سکیں۔ تاہم، انتظامیہ کے مطابق ملزم افسر کی جانب سے دیا گیا جواب غیر تسلی بخش قرار پایا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں گورننس کا بحران، ہائیکورٹ میں رٹ دائر

پشاور ہائیکورٹ کے مطابق، شوکاز نوٹس کے بعد معاملے کی تفصیلی جانچ پڑتال کی گئی، جس میں شواہد اور ریکارڈ کا بغور جائزہ لیا گیا۔ دورانِ کارروائی یہ بات ثابت ہو گئی کہ مذکورہ جج نے اپنے عہدے کے تقاضوں اور عدالتی آداب کی خلاف ورزی کی ہے۔ تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق اور الزامات کو سنجیدہ نوعیت کا قرار دیا گیا، جس کے بعد سخت تادیبی اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

عدالتی اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ چونکہ الزامات ثابت ہو چکے ہیں، اس لیے سینئر سول جج کو مزید ملازمت میں برقرار رکھنا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ہائیکورٹ نے اس فیصلے کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ عدلیہ میں فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی قسم کی بدانتظامی، بے ضابطگی یا ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پشاور ہائیکورٹ ماضی میں بھی عدالتی افسران کے خلاف ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائیاں کرتی رہی ہے، تاکہ انصاف کے نظام کی ساکھ کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس حالیہ فیصلے کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔