حج ویزا: بائیو میٹرک مکمل کرنے کیلئے 8 فروری ڈیڈ لائن
وزارت مذہبی امور
ترجمان وزارت مذہبی امور نے حج ویزا کے حصول کے لیے بائیو میٹرک مکمل کرنے کی آخری تاریخ 8 فروری مقرر کی/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک) ترجمان وزارت مذہبی امور نے حج ویزا کے حصول کے لیے بائیو میٹرک مکمل کرنے کی آخری تاریخ 8 فروری مقرر کر دی۔ عازمینِ حج کے لیے لازم ہے کہ وہ مقررہ تاریخ تک سعودی ویزا بائیو ایپ کے ذریعے اپنی بائیو میٹرک تصدیق مکمل کریں، بصورتِ دیگر حج ویزا جاری نہیں کیا جا سکے گا۔

وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے واضح کیا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عازمینِ حج کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے تاکہ انہیں غیر ضروری مشکلات یا طویل قطاروں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی مقصد کے تحت عازمینِ حج کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ موبائل فون پر دستیاب سعودی ویزا بائیو ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے ہی اپنے فنگر پرنٹس مکمل کر سکتے ہیں۔ اس عمل کے لیے کسی سرکاری دفتر یا مرکز پر جانا لازمی نہیں، جس سے وقت اور وسائل دونوں کی بچت ممکن ہو سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: عید پر نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ ملیں گے یا نہیں؟

ترجمان نے مزید بتایا کہ ان عازمین کے لیے جو موبائل ایپ استعمال کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں یا کسی تکنیکی مسئلے کا سامنا ہے، ان کی سہولت کے لیے تاشیر مراکز کھلے رکھے گئے ہیں۔ یہ مراکز ہفتہ اور اتوار کو صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کام کریں گے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ بائیو میٹرک کا عمل مکمل کر سکیں۔ تاہم رش سے بچنے اور نظام کو مؤثر رکھنے کے لیے عازمین کو یہی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ترجیحاً سعودی ویزا بائیو ایپ ہی استعمال کریں۔

وزارت مذہبی امور نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بائیو میٹرک تصدیق حج ویزا کے اجرا کے لیے لازمی شرط ہے، اور مقررہ تاریخ کے بعد بائیو میٹرک مکمل نہ کرنے والے افراد کو حج ویزا جاری نہیں ہو سکے گا۔ اس لیے تمام عازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آخری دن کا انتظار کرنے کے بجائے جلد از جلد یہ عمل مکمل کر لیں۔

ترجمان کے مطابق 80 سال سے زائد عمر کے عازمینِ حج کو بائیو میٹرک کی شرط سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، تاکہ بزرگ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ وزارت مذہبی امور نے عازمینِ حج سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کریں اور کسی بھی افواہ یا غیر مصدقہ اطلاع پر کان نہ دھریں۔ بروقت بائیو میٹرک مکمل کرنے سے نہ صرف حج ویزا کے حصول کا عمل آسان ہوگا بلکہ مجموعی انتظامات بھی بہتر انداز میں ممکن ہو سکیں گے۔