پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات میں شدت آگئی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کرگئے جہاں بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان اور سینیٹر مشال یوسفزئی نے ایک دوسرے کے کردار پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے تنقیدی نشتر چلا دیے۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کرگئے جہاں بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان اور سینیٹر مشال یوسفزئی نے ایک دوسرے کے کردار پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے تنقیدی نشتر چلا دیے۔

علیمہ خان اور سینیٹر مشال یوسفزئی کے مابین بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے اورعلیمہ خان نے مشعال یوسفزئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی خیر خواہ ہیں جس پر مشال یوسفزئی نے علیمہ خان کے بیان کو آے آئی جنریٹڈ قرار دے دیا۔

مشال یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ‏علیمہ خان صاحبہ بانی پی ٹی آئی کی بہن ہونے کے باعث میرے لیے قابل احترام ہیں، ابھی سوشل میڈیا پر میں نے اپنے حوالے سے چلنے والی ایک ویڈیو دیکھی جو یقیناً اے آئی جنریٹڈ ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے علیمہ خان کو بہت سختی سے اس قسم کے بیانات اور میڈیا پر لانے سے منع کیا تھا ، بانی نے خود میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ اب صرف ان کی بہن نورین نیازی صاحبہ میڈیا کے سامنے بیان دیں گی۔

مشال یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی جب ان کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے تو خان صاحب واضح ہدایت کی تھی کہ اس طرح کے بیانات یا اندرونی اختلافات کو باہر نہیں آنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا

پی ٹی آئی سینیٹر نے کہا کہ 4 اکتوبر کی گرفتاری کے بعد ان کے فون کے کچھ اسکرین شاٹس لیک ہوئے جس میں میرا ذکر تھا، اڈیالہ جیل میں میری انٹری بند کروانے کے لیے کسی کو کہا گیا تھا تو وہ بھی خان صاحب کے پوچھنے پر انہوں نے بتایا فیک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کا بیان بھی اسی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے میں سمجھتی ہوں کہ فیک یا اے آئی ہی ہوگا، اس لیے میں اس پر بیان دینا وقت کا ضیاع سمجھتی ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‏فوکس صرف عمران خان کی صحت اور شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ان تک رسائی پر رکھیں اور بانی پی ٹی آئی تک ملاقات کی رسائی ہوگئی تو ان کے سامنے تمام معاملات رکھوں گی۔ 

دوسری جانب سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے 8 فروری کے بعد مشال یوسفزئی کے خلاف کارروائی کاعندیہ دیتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کے بعد مشال یوسفزئی کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔