وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے بڑے ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو وہ شکست دی ان کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی، پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کی فتح نے ممالک کی رائے تبدیل کی، بھارت کو شکست کے بعد بھی پاکستان کا دنیا بھر میں ایک مقام بن چکا ہے، آج بھی کسی ملک میں جاتے ہیں تو پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معرکہ حق کے بعد عالمی دوروں کے دوران رویئے تبدیل ہوتے دیکھے ہیں، ایوارڈ لینے والے برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات کو 2 سال کیلئے بلیو پاسپورٹ دیں گے، بلیو پاسپورٹ 2 سال کیلئے کیوں ہوگا اس پر تفصیل بھی بتاؤں گا، برآمد کنندگان اور کاروباری طبقہ ہمارے سر کا تاج ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9 روپے اضافے کا امکان
انہوں نے کہا کہ تاجر برادری سے مشاورت کے بعد معاشی پالیسی بنائی جائے گی، کاروباری حضرات کا معیشت میں کلیدی کردار ہے، کاروباری طبقے کا معیشت میں کردار بڑھتا جا رہا ہے، کاروباری شخصیات نے شبانہ روز محنت کر کے ملک کانام روشن کیا، برآمدکنندگان نے مشکل حالات میں بہترین کام کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ برآمد کنندگان نے 2025 میں ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا، برآمد کنندگان کی غیر متزلزل محنت سے ملک میں اربوں ڈالر آئے، ماضی میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کی جا رہی تھیں، کچھ لوگوں نے کہا پاکستان ٹیکنیکی طور پر ڈیفالٹ ہوچکا ہے، 2023 میں پیرس سمٹ میں ایم ڈی آئی ایف سے ملاقات ہوئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایم ڈی آئی ایم ایف نے سخت شرائط کی بات کی، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہمارے لیے چیلنج تھا، پاکستان کی پذیرائی کرنے والے ممالک کا مشکور ہوں، چین، سعودی عر ب، قطر اور یو اے ای نے ہماری مدد کی، جب کوئی مانگنے جاتا ہے تو عزت نفس پرسمجھوتا کرنا پڑتا ہے، سری لنکا نے آئی ایم ایف سے کہا دیوالیہ ہونے کا مزہ ہم نے چکھ لیا، پاکستان کو بچنا چاہیے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایم ڈی آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے پروگرام کی منظوری دی، پاکستان میں اب معیشت مستحکم ہوچکی ہے، معیشت مستحکم تو ہوگئی مگر ابھی بھی صورتحال زیادہ بہتر نہیں، ملک کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا، حکومت کی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، مشکل فیصلوں کے بہترین نتائج برآمد ہو رہے ہیں، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں ہے، پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 10 فیصد تک آچکا ہے، پالیسی ریٹ میں مزید کمی نہ ہونے سے صلاحیتوں میں اضافہ نہیں کرسکتے۔