اس فیصلے کی وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد وزارتِ تجارت نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے تحت امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ضروری ترامیم شامل کر لی گئی ہیں۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب عام صنعتی یا تجارتی مقاصد کیلئے کلوروفارم کی درآمد کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم صرف فارماسوٹیکل کمپنیوں کو مخصوص شرائط کے تحت کلوروفارم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد کلوروفارم کے غیر ضروری استعمال کو روکنا اور اس سے جڑے صحت و ماحولیاتی خطرات پر قابو پانا ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا کہ فارماسوٹیکل کمپنیوں کو بھی کلوروفارم کی درآمد کیلئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) سے این او سی حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
این او سی کے بغیر کسی بھی کمپنی کو کلوروفارم درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکام کے مطابق اس اقدام سے کیمیکل کے غلط استعمال کی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں:گیس کل صبح تک بند رہے گی، وجہ سامنے آگئی
واضح رہے کہ کلوروفارم ایک خطرناک کیمیکل ہے، جس کا بے جا استعمال انسانی صحت اور ماحول دونوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اس کی درآمد اور استعمال پر سخت قوانین نافذ ہیں۔ وفاقی حکومت کا یہ اقدام بین الاقوامی ماحولیاتی معیارات سے ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ کسٹمز اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ پابندی پر مؤثر طریقے سے عمل کیا جا سکے۔