وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مصروفیات کے باعث سہیل آفریدی سے ملاقات کرنے سے معذرت کر لی، جس پر سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کراچی پہنچ چکے ہیں، میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ آج جلسہ ہر صورت ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ حیدرآباد سے کراچی پہنچنے میں ساڑھے سات گھنٹے لگے، ہمیں جان بوجھ کر سنسان سڑکوں پر دھکیلا گیا۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت اقتدار کے نشے میں ہوش کھو بیٹھی ہے، تاہم کراچی کے عوام عمران خان کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں اور جلسہ کسی صورت منسوخ نہیں ہوگا۔
دوسری جانب سندھ حکومت نے جلسے کے انعقاد سے متعلق خبردار بھی کر دیا، صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ باغِ جناح وفاق کے زیر انتظام ہے، اسی وجہ سے اجازت کے معاملے میں رسمی کارروائی میں تاخیر ہوئی، جلسہ ایک یا دو گھنٹے تاخیر سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سابق سینیٹر مشتاق احمد نے نئی جماعت کی بنیاد رکھ دی
وزیر داخلہ ضیاء لنجار نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر جلسہ کرنا ہے تو باغِ جناح میں کریں، حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی، تاہم عوام کو کسی قسم کی تکلیف پہنچی تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ملاقات کی منسوخی اور جلسے پر جاری تنازع نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے، جس کے باعث شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔