
دریائے چناب کے پانی میں تو بتدریج کمی ہوئی لیکن گزشتہ روز گزرنے والا سیلابی ریلہ تباہی کی داستانیں رقم کر گیا، ہیڈ قادرآباد سے ملحقہ دریائی پٹی کے درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا جبکہ حالیہ بارش سے سیلابی پانی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق اس وقت دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد کے مقام پر ایک لاکھ 55 ہزار کیوسک پانی کی سطح ریکارڈ کی گئی ہے۔
دوسری جانب ساہیوال میں دریائے راوی کے قطب شہانہ پل سے 2 لاکھ 10 ہزار کیوسک کا بڑا ریلہ گزر رہا ہے،دریائے راوی پر بنائے گئے متعدد بند سیلابی پانی بہا لے گیا،کوڑے شاہ، داد بلوچ ، نگا آباد، قطب شہانہ اور آڑتلہ کے مقام پر بنائے گئے عارضی بند ٹوٹ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: راوی، ستلج اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ
دریائے راوی پر بنے بند ٹوٹنے سے 100 سے زائد دیہات اور موضع جات میں سیلابی پانی داخل ہو گیا، نورن سنپال، مرادہ دلو بڈھن شاہ سمیت متعدد آبادیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں جبکہ سیکڑوں ایکڑ اراضی دریا برد ہو گئی،متعدد آبادیوں کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔
ساہیوال کی ضلعی انتظامیہ ، پاک فوج،ریسکیو، پولیس اور سول ڈیفنس کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں جہاں سیلاب سے متاثرہ افراد کو ریسکیو کیمپس میں منتقل کیا جا رہا ہے، ضلعی انتظامیہ نے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے 30 ریسکیو کیمپس بنائے ہیں۔



