
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے، بڑا سیلابی ریلا خانیوال، اوکاڑہ اور اس کے اطراف کے دیہات کو متاثر کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اوکاڑہ، ساہیوال، کمالیہ، خانیوال اور کبیر والا کے کئی علاقے زیر آب آنے کے خدشے میں ہیں، جبکہ پاکپتن، بہاولنگر اور وہاڑی میں بھی کل تک ایک لاکھ 35 ہزار کیوسک پانی پہنچنے کا امکان ہے۔
عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ اس وقت قصور کے مقام پر دریائے ستلج میں 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے، تاہم پانی کی سطح میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود بہاولپور اور بہاولنگر کے مزید دیہات متاثر ہونے کا امکان برقرار ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ہیڈ تریموں پر پانی کی آمد میں ایک لاکھ کیوسک اضافہ ہوا ہے، جبکہ ہیڈ اسلام پر ایک لاکھ 35 ہزار کیوسک پانی کل تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اسی طرح ہیڈ سلیمانکی پر آج شام تک پانی کی سطح ایک لاکھ 75 ہزار کیوسک تک بلند ہو سکتی ہے جو خطرناک حد قرار دی گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ اب تک 7 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ جانوروں کو ریسکیو کرنے کیلئے بھی بیڑے منگوا لیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگلے 5 سے 6 روز میں پانی کا اسپیل اترنے کی توقع ہے، جس کے بعد ریسکیو آپریشن مزید تیز ہو جائے گا۔
دوسری جانب لاہور سمیت پنجاب بھر میں بارشوں کا سلسلہ 2 ستمبر تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے سیلابی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور متاثرہ علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔



