
NHA ہیڈکوارٹر میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ مواصلات نے اعلان کیا کہ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی مانیٹرنگ کا نظام سب سے پہلے M-1 اور M-2 موٹرویز پر متعارف کرایا جائے گا۔ یہ نظام کمپیوٹرائزڈ نگرانی کرے گا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی جیسے کہ اوور اسپیڈنگ کی صورت میں گاڑی کے مالکان کو خودکار ایس ایم ایس الرٹس بھیجے گا۔
علیم خان نے زور دے کر کہا کہ موٹروے پولیس کا تیز رفتار گاڑیوں کے آگے آنا بند ہونا چاہیے کیونکہ اس سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کو نفاذ کی ذمہ داری سنبھالنی چاہیے۔
وزیرِ موصلات نے محصولات کی وصولی اور ٹھیکوں کے نظام میں اصلاحات کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹول پلازہ کے ٹھیکے شفاف طریقے سے نیلام کیے جائیں اور ہائی ویز پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک مربوط پالیسی اپنائی جائے جس میں محصولات کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن شامل ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی رائے کو سنجیدگی سے شامل کیا جائے تاکہ خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کیلئے بجلی بلوں میں ریلیف کا اعلان
زمین کے استعمال کے حوالے سے NHA کو ہدایت کی گئی کہ این او سی فیس (NOC Fees) شہر کے سائز اور کاروبار کی نوعیت کے مطابق معقول مقرر کی جائے۔ وزیر نے افسران کو یہ بھی ہدایت دی کہ شاہراہوں کے ساتھ شجرکاری میں اضافہ کیا جائے اور نجی کمپنیوں کو درخت لگانے، دیکھ بھال اور تحفظ کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ ماحول پر طویل مدتی مثبت اثرات مرتب ہوں۔