عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست دائر
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) و سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) و سابق وزیراعظم عمران خان/ فائل فوٹو
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) و سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شبلی فراز نے درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ 24 مارچ کو لارجر بنچ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں کے حوالے سے فیصلہ دیا، عدالتی فیصلے کے مطابق منگل اور جمعرات کو ملاقات کرانا ضروری ہے، جیل حکام کی جانب سے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا، استدعا ہے کہ عدالت جیل حکام و دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔

دوسری جانب عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے مخصوص لوگوں کی ملاقات پر سوالات اٹھا دیئے۔

علیمہ خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہمیں جیل حکام کی جانب سے صاف طور پر بتایا گیا تھا کہ   عید کی چھٹیوں کے دوران خاندان کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ آخری بار ہم اپنے بھائی سے منگل 20 مارچ کو ملے تھے، پچھلے منگل 27 مارچ کو ہمیں اپنے بھائی سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمیں عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، لیکن کچھ لوگوں کو ان سے ملنے کی اجازت دی گئی ہے ؟ کیا عید کی چھٹیوں کی پابندیاں صرف خاندان کے افراد پر لاگو ہوتی ہیں ؟ ہمیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی انہیں اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت ہے۔

یاد رہے گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں عمران خان سے صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور ان کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹرسیف نے ملاقات کی تھی، علی امین گنڈا پور کی ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے کے بعد بانی پی ٹی آئی سے پہلی ملاقات تھی۔