
ڈاکٹر منظور اعجاز کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پنجابی ادب اور ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تحریریں اور تحقیق پنجابی ادب کے لیے ایک گرانقدر اضافہ ہیں۔ ڈاکٹر منظور اعجاز نے "ہیر وارث شاہ" کی پانچ جلدوں پر مشتمل شرح لکھی، جو کہ پنجابی ادب کا ایک اہم شاہکار ہے۔
یہ کتاب پنجابی ثقافت اور ادب میں اپنی نوعیت کی پہلی جامع تشریح تھی جس نے نہ صرف پنجابی بولنے والے علاقوں میں بلکہ عالمی سطح پر بھی پنجابی ادب کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کی شرح نے ہیر وارث شاہ کے اشعار کو سمجھنے میں آسانی فراہم کی اور عوام کو ان کے پیغامات سے روشناس کرایا۔
ان کا ادب میں گہرا اور علمی کام ان کی زندگی کی سب سے بڑی وراثت ہے۔ ڈاکٹر منظور اعجاز نے نہ صرف پنجابی ادب پر تحقیق کی بلکہ اس ادب کو جدید تناظر میں پیش کیا، جس سے نئی نسل کو پنجابی کے عظیم ادیبوں کی اہمیت اور ان کے کام کی قدر کا احساس ہوا۔ ان کی تصانیف اور تحقیق ان کے علمی سفر کا نمایاں حصہ ہیں۔
ڈاکٹر منظور اعجاز کا انتقال پنجابی ادب کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کی تحقیق و تحریر کو نئی نسل کے ادیبوں کے لیے ایک روشنی کا مینار سمجھا جائے گا۔