
ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف والے خواب دیکھتے ہیں کہ عمران خان کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی، عید پر عمران خان سے ملاقات کیلئے کسی نے درخواست نہیں دی کیسے ملاقات کراتے ۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف والوں کی عمران خان سے معمول کی ملاقاتیں ہوتی ہیں، اب یہ تو نہیں ہے کہ وہاں پر وہ چوکھٹ لگا کر بیٹھ جائیں جو بھی آ رہا ہوگا وہ ملے گا،ایک طریقہ کار ہے تحریک انصاف کو پروسیجر فالو کرنا پڑے گا ، مسئلہ یہ ہے پی ٹی آئی کے پانچ گروپ ہیں،ہر گروپ کی روزانہ ملاقات نہیں ہو سکتی جو طریقہ کار ہے اس کے تحت ہی ملاقات ہوگی۔
عمران خان کو جیل میں میسر سہولیات پر تنقید کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں جیل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ، اڈیالہ میں جو عام قیدی کو جیم اور مرغوں کی سہولت دستیار نہیں ہے لیکن عمران خان کو میسر ہے،جو سہولت عمران خان کو میسر ہے وہی سہولت عام قیدیوں کو بھی دی جائے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں امریکا کے سٹیڈیم میں کھڑے ہو کر کہا تھا نواز شریف کی بیرک سےفریج اے سی نکال دو ہر چیز نکال دو اور اب وہ مرغے مانگتے ہیں، حکومت کو میرا مشورہ ہے عمران خان پر وہی فارمولہ اپلائی کیا جائے جو انہوں نے دوسروں کیلئے تجویز کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تو چیخیں پشاور تک آ رہی ہیں پھر کراچی تک سنائی دیں گی،عمران خان اور پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ کسی طریقے ان کو این ار او مل جائے، تحریک انصاف نے نیشنل سکیورٹی کے ایشو میں شرکت نہ کر کے این ار او مانگنے کی کوشش کی ہے،نیشنل سکیورٹی کا ایشو پاکستان کی سلامتی کا ایشو تھا۔
گورنر خیبرپختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ جب بانی پی ٹی آئی خود وزیراعظم تھے تو قومی سلامتی کی میٹنگ میں خود غائب ہوتے تھے، عمران خان کو پاکستان سے کوئی غرض نہیں ہے، ان کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں ۔