Suno News
پاکستان بچانے کیلئے شفاف انتخابات ناگزیر ہیں: عمران خان
Image
راولپنڈی:(ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کو بچانے کا واحد راستہ صاف و شفاف انتخابات ہیں۔
 
 اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کی۔
 
اسٹیبلشمنٹ کی حکومت اور شہباز شریف:
 
عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں اصل حکومت اسٹیبلشمنٹ کی ہے جبکہ شہباز شریف کو صرف رسمی تقریبات کے لیے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے عوام کی امیدیں ختم کر دی ہیں اور کسی کو بھی اس پر بھروسہ نہیں رہا۔ عمران خان نے کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو بچانا چاہتی ہے تو اسے شفاف انتخابات کی طرف جانا ہوگا۔
 
انتخابات میں مبینہ دھاندلی:
 
عمران خان نے انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ انتخابات میں تاریخی دھاندلی ہوئی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ہمیں انصاف کے لیے الیکشن کمیشن بھیج رہے ہیں حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ الیکشن کمیشن نے فراڈ انتخابات کرائے ہیں۔ عمران خان نے مزید کہا کہ امریکی کانگریس بھی کہہ رہی ہے کہ پاکستان میں فراڈ انتخابات ہوئے ہیں۔
 
میڈیا پر دباؤ اور شفاف انتخابات:
 
عمران خان نے میڈیا پر دباؤ ڈالنے کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو دبانے کے لیے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ صحافیوں نے جب سوال کیا کہ آپ شفاف انتخابات کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے مخاطب ہیں، تو عمران خان نے جواب دیا کہ ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے اور شفاف انتخابات کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو پیچھے ہٹنا پڑے گا۔
 
ملک کی معیشت اور قرضہ:
 
عمران خان نے ملک کی معاشی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2021 ءمیں ملک کا قرضہ 28 کھرب تھا جو کہ 4 سال میں بڑھ کر 80 سے 90 کھرب تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر بوجھ بڑھ گیا ہے اور غریب عوام کے لیے بجلی کے بلوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
 
ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائلز:
 
عمران خان نے سویلین کے ملٹری کورٹس میں ٹرائلز پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کون سی جمہوریت میں ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائلز ہوتے ہیں؟ انہوں نے اپنی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے ٹریٹ کیا جارہا ہے جیسے انہوں نے سب سے بڑی غداری کی ہو۔
 
جمہوریت اور انسانی حقوق:
 
عمران خان نے جمہوریت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اخلاقی رویوں پر چلتی ہے اور جہاں جمہوریت آزاد ہوتی ہے وہی ملک ترقی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کی قبر کھودی جارہی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
 
بھوک ہڑتال:
 
عمران خان نے بھوک ہڑتال کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ضرور بھوک ہڑتال کریں گے اور اس وقت کچھ فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔
 
پرویز خٹک کے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں بیان:
 
پرویز خٹک کے بیان کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ پرویز خٹک نے کچھ خاص نہیں کہا اور اس پر بعد میں جرح کے وقت بات کریں گے۔
 
عمران خان نے ملک کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ پاکستان کو بچانے کا واحد راستہ صاف و شفاف انتخابات ہیں۔ انہوں نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کو بچانے کے لیے جمہوریت کو مضبوط کرنا ہوگا۔