عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں
آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی آمدورفت سست پڑنے سے سرمایہ کاروں میں جغرافیائی سیاسی خطرات کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پیر کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت تقریباً ایک فیصد اضافے کے بعد 89.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ 0229 GMT پر برینٹ 72 سینٹ اضافے کے ساتھ 89.20 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کررہا تھا۔
اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی 44 سینٹ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 82.83 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
ذہن نشین رہے کہ دونوں عالمی بینچ مارک گزشتہ ہفتے بھی 5 فیصد سے زیادہ مہنگے ہوئے تھے۔ مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں آبنائے ہرمز میں ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے زیر انتظام ٹینکرز اور سعودی آرامکو کی ایک ریفائنری پر ہونے والے حملے شامل ہیں۔
سنگاپور میں فلپ نووا کی سربراہ برائے مارکیٹ انسائٹس پریانکا سچدیوا کے مطابق تیل کی قیمتیں اگست کے اوائل میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح سے تقریباً مکمل طور پر بحال ہوچکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی مستقل حل کی امیدیں کم ہونے کے بعد مارکیٹ میں جغرافیائی سیاسی خطرات کا پریمیم دوبارہ شامل ہوگیا ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں کو سہارا ملا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں اضافے کی گنجائش محدود ہے۔ قیمتوں میں بڑا اضافہ اسی صورت میں متوقع ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی دوبارہ بڑھے اور ٹینکرز یا تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے نقصان کے واضح شواہد سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث آنے والے دنوں میں سرمایہ کار امریکا ایران تعلقات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گہری نظر رکھیں گے۔