خام تیل کی قیمتیں 102 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
بحیرہ احمر میں سیکیورٹی خدشات، آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں عارضی رکاوٹ نے عالمی سپلائی کے بارے میں سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 102 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرنے میں کامیاب رہا۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 92 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ اماراتی مربن آئل 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اس تیزی کی بڑی وجہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ہے۔ ان واقعات کے بعد عالمی منڈی میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو دنیا بھر میں خام تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ باب المندب آبنائے ہرمز کے بعد تیل کی ترسیل کیلئے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ ادھر حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی بندش کیلئے بھی حوثیوں پر دباؤ ڈالا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سرحد پار تجارت کیلئے پہلی بار پی ایس ڈبلیو ایپ متعارف
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔