کاروباری ہفتے کے آغاز پر مارکیٹ نے مثبت انداز میں آغاز کیا، تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور مارکیٹ جلد ہی منفی زون میں داخل ہو گئی۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہنڈرڈ انڈیکس میں 557 پوائنٹس کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 53 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے بھی نیچے آ گیا، ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں یہ مندی سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث سامنے آ رہی ہے۔
دوسری جانب کرنسی مارکیٹ میں صورتحال نسبتاً مستحکم رہی، انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی اور ڈالر 279 روپے 20 پیسے کی سطح پر برقرار رہا۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں استحکام وقتی ریلیف ضرور فراہم کر رہا ہے، تاہم سٹاک مارکیٹ کی گرتی ہوئی صورتحال معیشت کیلئے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈیاں غیر یقینی کا شکار، تیل اور سونا مہنگا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں معاشی پالیسیوں، سیاسی استحکام اور عالمی مالیاتی حالات مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے، سرمایہ کاروں کو محتاط حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔