محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں اور اکیڈمیوں کو 31 مارچ تک بند رکھنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام کے مطابق کسی بھی نجی سکول کو کھلا پایا گیا تو اسے فوری سیل کر دیا جائے گا اور اس کی رجسٹریشن منسوخ بھی کی جا سکتی ہے جبکہ زمہ داران کو شو کاز نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ سرکاری سکولوں کے حوالے سے بھی سخت موقف اختیار کیا گیا اور ہدایت دی گئی کہ حکم نہ ماننے کی صورت میں اساتذہ اور ہیڈ ماسٹرز کی تنخواہیں روکی جا سکتی ہیں۔ محکمہ تعلیم نے روزانہ کی بنیاد پر عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی جبکہ مخالفت پر 8 سکولوں کو پہلے ہی سیل کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران، امریکا جنگ: ایئر ٹکٹ 100 فیصد مہنگے
دوسری جانب سکولوں میں داخلوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی جس سے معمول کا داخلہ شیڈول متاثر ہوا ہے، عام طور پر مارچ کے مہینے میں نرسری سے پہلی جماعت تک داخلے مکمل کیے جاتے ہیں تاہم اس بار عمل تقریباً رک گیا ہے اور اندازہ ہے کہ داخلوں کی شرح میں نمایاں کمی ہوسکتی ہے۔
نجی سکولوں کی تنظیموں کے نمائندوں نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی شعبے کو تجربات کا میدان بنا دیا گیا ہے جبکہ امتحانی نظام اور داخلہ عمل دونوں متاثر ہو چکے ہیں۔
راولپنڈی کی ضلعی تعلیمی اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ بعض ادارے بندش کے باوجود عملہ اور طلبہ کو بلا رہے ہیں جو حکومتی احکامات کے خلاف ورزی ہے، حکام نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات پر سخت کارروائی ہوگی اور کسی بھی ادارے کو 31 مارچ سے پہلے کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔