عالمی منڈیاں غیر یقینی کا شکار، تیل اور سونا مہنگا
عالمی منڈی
بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک): ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کی جاری کوششوں کے باوجود عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد فی بیرل قیمت 103 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ آئل کی قیمت بھی 1.2 فیصد اضافے کے بعد 91 ڈالر 39 سینٹ فی بیرل ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور سپلائی خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ

دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی کا رجحان غالب رہا۔ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ کے کوسپی انڈیکس میں 1.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جاپان میں ٹوپکس انڈیکس میں 0.2 فیصد اور نکے انڈیکس میں 0.6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے علاوہ ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں 0.23 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی 0.9 فیصد گراوٹ دیکھی گئی۔

کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بھی اتار چڑھاؤ جاری رہا۔ بٹ کوائن کی قیمت بڑھ کر 71 ہزار 214 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ ایتھر کی قیمت کم ہو کر 2 ہزار 163 ڈالر رہ گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کے باعث کرپٹو مارکیٹ میں بھی غیر استحکام پایا جا رہا ہے۔

ادھر عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں فی اونس قیمت بڑھ کر 4 ہزار 530 ڈالر ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق غیر یقینی حالات میں سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجوع کرتے ہیں، جس کے باعث سونے کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
مجموعی طور پر عالمی مالیاتی منڈیاں ایران-امریکہ کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے نتائج کے انتظار میں غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔