سینٹرل پاور پرچیزنگ انڈسٹری (سی پی پی اے) نے جنوری کے لیے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ 1 روپے 78 پیسے اضافے کی درخواست جمع کرائی تھی۔ حتمی فیصلہ ریگولیٹری جائزے کے بعد جاری کیا جائے گا۔
سماعت کے دوران حکام نے بتایا کہ جنوری میں تقریباً 8.76 ارب یونٹس بجلی فروخت کی گئی۔ فی یونٹ تخمینی ایندھن لاگت 10 روپے 39 پیسے تھی، تاہم اصل لاگت بڑھ کر 12 روپے 17 پیسے تک پہنچ گئی جس کے باعث قیمت میں اضافے کی تجویز دی گئی۔
حکام کے مطابق پن بجلی کی کم پیداوار اور بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اخراجات میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ طلب پوری کرنے کے لیے فرنس آئل سے چلنے والے مہنگے پاور پلانٹس استعمال کرنا پڑے جس سے مجموعی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: یکم مارچ سے پیٹرول مہنگا ہو گا یا سستا؟ جانیے
حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ بڑھتی ہوئی طلب خصوصاً پیک آورز کے دوران پوری کرنے کے لیے ان پلانٹس کا استعمال ناگزیر تھا۔
سی پی پی اے کی درخواست کے مطابق حکومتی پالیسی رہنما اصولوں کے تحت یہ اضافہ کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی لاگو ہوگا۔
اگر منظوری دے دی گئی تو یہ اضافہ پہلے سے مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دبے صارفین پر مزید دباؤ ڈالے گا اور پاکستان کے پاور سیکٹر کو درپیش ساختی مسائل کی عکاسی کرے گا۔