بلوچستان موسمیاتی تبدیلی کا شکار

کوئٹہ جو کبھی قدرتی چشموں، سرسبز وادیوں اور خوشگوار موسم کے باعث پورے خطے میں اپنی منفرد پہچان رکھتا تھا، آج ایک خاموش مگر انتہائی خطرناک آبی بحران کی زد میں ہے۔ بدلتے موسمی حالات، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور غیر دانشمندانہ آبی استعمال نے اس شہر کو پانی کی شدید قلت کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہ بحران محض کوئٹہ تک محدود نہیں بلکہ پورا بلوچستان موسمیاتی تبدیلی اور خشک سالی کے سنگین اثرات بھگت رہا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ کی آبادی 30 سے 35 لاکھ کے درمیان ہے تاہم حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ روزانہ کاروبار، روزگار، تعلیم اور علاج کی غرض سے ہزاروں افراد دیگر اضلاع سے کوئٹہ آتے ہیں جو مردم شماری کا حصہ نہیں، مگر شہر کے وسائل خصوصاً پانی پر ان کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ کے محدود آبی ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔گزشتہ دو دہائیوں میں کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح تشویشناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔

جامعہ بلوچستان کے ڈیپارٹمنٹ آف جیوگرافی اینڈ انڈیجنَس پلاننگ کے اسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ثنا اللہ پانیزئی کے مطابق اس سنگین صورتحال کی بنیادی وجہ نیگیٹو واٹر بیلنس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیگیٹو واٹر بیلنس سے مراد یہ ہے کہ جتنا پانی زمین سے نکالا جا رہا ہے اس کے مقابلے میں قدرتی طور پر زمین میں واپس پہنچنے والا پانی کہیں کم ہے۔اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ میں سالانہ اوسط بارش تقریباً 244 ملی میٹرہے جو عالمی معیار کے مطابق ریگستانی علاقوں کے برابر سمجھی جاتی ہے یہی کم بارش اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئٹہ جیسے شہر میں پانی کا قدرتی ریچارج نہایت محدود ہے اس کے برعکس آبادی میں اضافے کے باعث پانی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

کوئٹہ کے باسیوں کا تقریباً مکمل انحصار زیر زمین پانی کے ذخائر، یعنی ایکوفرز، پر ہے روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ٹیوب ویل زمین کے سینے کو چھید کر پانی نکال رہے ہیں مگر بارش اور برف باری کے ذریعے اس پانی کی واپسی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ڈاکٹر ثنا اللہ پانیزئی کے مطابق اگر اسے سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو کوئٹہ میں تقریباً دو تہائی پانی استعمال ہو رہا ہے جبکہ صرف ایک تہائی پانی زمین میں واپس ریچارج ہو پا رہا ہے یہی عدم توازن ہر سال زیر زمین پانی کی سطح کو مزید نیچے دھکیل رہا ہے۔شہر کے کئی علاقوں میں صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ شہریوں کو پینے کے پانی کے لئے دور دراز علاقوں سے مہنگے داموں واٹر ٹینکر منگوانے پڑتے ہیں۔ بعض مقامات پر پرانے ٹیوب ویل مکمل طور پر سوکھ چکے ہیں جبکہ نئے ٹیوب ویل سینکڑوں فٹ گہرائی تک کھودے جا رہے ہیں جس سے پانی نکالنے کی لاگت بھی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے جن کے لئے صاف پانی اب ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔یہ بحران صرف کوئٹہ تک محدود نہیں بلکہ پورا بلوچستان اس کی لپیٹ میں ہے۔

بلوچستان کا شمار پاکستان کے ان صوبوں میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صوبے کے بیشتر علاقوں میں سالانہ بارش کی مقدار 22 ملی میٹر سے بھی کم ریکارڈ کی گئی ہے جو شدید خشک سالی کی واضح علامت ہے۔پشتون بیلٹ میں چمن، پشین اور لورالائی جبکہ بلوچ بیلٹ میں نوشکی، خاران اور پنجگور جیسے اضلاع پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ نوشکی جیسے علاقوں میں تو پینے کے صاف پانی کی دستیابی ایک بڑا انسانی مسئلہ بن چکی ہے جہاں لوگ کئی کئی میل دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں یہی صورتحال خاران اور پنجگور کے کئی دیہی علاقوں میں بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔اس سنگین صورتحال کے پیش نظر حکومت بلوچستان کی جانب سے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

ڈیلے ایکشن ڈیمز، ریچارج ڈیمز، اور پانی کی گورننس کو بہتر بنانے کے منصوبے حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ حال ہی میں کمشنر کوئٹہ کی جانب سے ایک جامع ایکشن پلان تجویز کیا گیا ہے جس کے تحت روزانہ تقریباً 8.1 ملین گیلن پانی کو بہتر طریقے سے استعمال اور محفوظ بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئٹہ کی ہزاروں مساجد میں استعمال ہونے والے نسبتاً کم آلودہ پانی کو مناسب ٹریٹمنٹ کے بعد ریچارج ویلزکے ذریعے زمین میں واپس پہنچایا جائے تو زیر زمین پانی کی سطح میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے اس کے علاوہ شہری علاقوں میں ریچارج زونز قائم کر کے بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔اسی طرح حکومت بلوچستان سبزل واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سمیت متعدد منصوبوں پر سرمایہ کاری کر رہی ہے، جہاں روزانہ تقریباً 2.4 ملین گیلن پانی صاف کر کے قابلِ استعمال بنایا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس ٹریٹڈ پانی کو کنسٹرکشن، اربن ایگریکلچر اور شجرکاری میں استعمال کر کے قیمتی زیر زمین پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر فوری اور موؤثر اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والے برسوں میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی علاقے شدید آبی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔ پانی کے دانشمندانہ استعمال، جدید مینجمنٹ، ریچارج زونز کے قیام اور عوامی شعور کے بغیر اس مسئلے کا حل ممکن نہیں۔کوئٹہ کی پیاس صرف پانی کی نہیں بلکہ بروقت فیصلوں، مو ¿ثر پالیسی اور اجتماعی ذمہ داری کی بھی ہے اگر آج سنجیدہ اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والی نسلوں کو ایک پیاسا بلوچستان ورثے میں ملے گا۔