چیئرمین بلیوورلڈ سٹی کا عادل راجا کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان
Image

راولپنڈی :(سنونیوز)بدنام زمانہ یوٹیوبرعادل راجہ کے جھوٹے الزامات کا جواب دینے کے لیےچیئرمین بلیو ورلڈ سٹی سعد نذیرخود میدان میں آگئے، ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے جعل ساز ملک دشمن یوٹیوبر کے خلاف برطانیہ میں قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین بلیوورلڈ سٹی سعد نذیر کا کہنا تھا کہ کہا کہ اگر ان کے پراجیکٹس میں حاضر سروس فوجیوں کی سرمایہ کاری ہے تو ثبوت دکھاؤ سوشل میڈیا پر لوگوں کو بتاؤ،اگریہ الزامات ثابت ہوئے تو پوری بلیو ورلڈ انتظامیہ ڈی چوک پر گردن کٹوا لے گی نہیں توشرم سے ڈوب مرنا۔

سعد نذیر نےویڈیو پیغام میں عوام کے سامنے اس سازش کا پول کھولا کہ چند مسلمان ممالک کو چھوڑ کر بیشتر مسلم ممالک اس وقت تباہی کا شکار ہیں، پاکستان کے خلاف سازشوں کو پاک فوج نے قربانیں دے کر ناکام بنایا اب غیر ملکی ایجنسیاںعادل راجہ جیسے لوگوں کی مدد سے پاکستانی عوام کو استعمال کر رہی ہیں،جس طرح نو مئی کو کیا تاکہ پاکستان کی ترقی کو روکا جا سکے۔

 

سعد نذیر نے بلیو ورلڈ سٹی پراجیکٹ کے بارے میں بھی واضح کرتے ہوئے کہا کہ بلیو ورلڈ سٹی نے کیٹپل سمارٹ سٹی سمیت متعدد مقامی ڈویلپرز کے ساتھ پارٹنرشپ کی تاکہ ایک حقیقی ٹورسٹ سٹی بن سکے، یہ اکیلا پراجیکٹ ملک کا قرضہ اتار سکتا ہے۔

چیئرمین بلیوورلڈ سٹی کے مطابق پاکستان میں دبئی طرز کا ترقیاتی مادل لانے کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں،جیسے دبئی اور مشرقی وسطیٰ کے ممالک نے لڑائیاں چھو ڑ کر ملک کی ترقی کیلئے اکٹھے کام کیااسی طرح پاکستان میں بھی سب ادارے مل کر ایک دوسرے کا بازو بنیں، یہی کوشش ان اوپر الزامات کا سبب بن رہی ہے۔

انہوں نے اپنےویڈیو پیغام میں واضح کیا کہ وہ آخری دم تک ایسے جعل سازوں کے خلاف سینہ سپر رہیں گے اور بلیک میلنگ سے نہیں ڈریں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ملک دشمن یوٹیوبر نے اپنی ویڈیو سے پاکستان کی بزنس کمیونٹی اور پاک فوج کے وقار میں دراڑ ڈالنے کی سازش کی ہے، اس کے باوجود بلیوورلڈ انتظامیہ ، عادل راجہ کو بے بنیادالزامات پر معافی مانگنے کی مہلت دیتی ہے۔

واضح رہے کہ بدنام زمانہ یوٹیوبر عادل راجہ نے حاضر سروس فوجی قیادت کو نشانہ بنانے کیلئے من گھڑت اور جعلی سی ویڈیو شیئر کر کے کہاکہ حاضر سروس فوجی قیادت نے بلیو ورلڈ سٹی کو کام کرنے کی کھلی اجازت دی ہے اس کے بدلے وہ اس پراجیکٹ میں پارٹنر بن گئے۔

404 - Page not found

The page you are looking for might have been removed had its name changed or is temporarily unavailable.

Go To Homepage